ساہیوال (بیورو چیف)حکومت بدلی اقتدا ر بدلا نظام بدلا اور نہ بدلا تو غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کا نظام نہیں بدلا۔جہاز گرائونڈ،موروالا چوک،مسلم بن عقیل کالونی، طارق بن زیاد کالونی، نئی ابادی بھٹو نگر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شہریوں کے لیے وبال جان بن گئی۔غیر اعلانیہ پانچ سے آٹھ گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ گھروں، دوکانداروں اور تاجروں کے لیے شدید پریشانی کا باعث کاروبار مفلوج بجلی کی آنکھ مچولی تاجروں کے ساتھ ساتھ بچوں بوڑھوں کے لیے بھی حبس میں پریشان کر رہی ہے۔ واپڈا کے لائن مین اور اعلی افسران اپنے ہیلپ لائن نمبر اور اس کے ساتھ ساتھ پرسنل نمبر بھی بند کر کر رکھ دیتے ہیں تاکہ کسی کو جواب نہ دینا پڑے۔ واپڈا اہلکار افسران ٹھنڈے اے سی کے نیچے خرگوش کی نیند سو رہے ہیں غریب عوام حبس اور گرمی کے باعث شدید پریشان ہے اور چھوٹے بچے بجلی نہ ہونے کے باعث پریشانی ہو رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش نے بچوں، بزرگوں، مریضوں اور خواتین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے، جبکہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر عوام کی بروقت داد رسی نہیں کرنی تو پھر شکایات وصول کرنے کا نظام قائم رکھنے کا مقصد کیا ہے اہلِ علاقہ نے الزام لگایا ہے کہ متعلقہ افسران اور عملہ عوامی مسائل کے حل میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے چیف ایگزیکٹو میپکو، سپرنٹنڈنگ انجینئر، ایکسین اور ایس ڈی او سے فوری نوٹس لینے، بجلی بلا تاخیر بحال کرنے اور غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بجلی بحال نہ کی گئی اور عوامی شکایات کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا تو وہ پرامن احتجاج اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر مجبور ہوں گے۔




