کھربوں کے سرکاری اثاثوں پر نیا قانونی نظام نافذ

لاہور(بیوروچیف) پنجاب کے کھربوں روپے کے سرکاری اثاثوں پر نیا قانونی نظام نافذ، فروخت، لیز، جوائنٹ وینچر، رہن اور براہِ راست معاہدوں کے وسیع اختیارات پر مشتمل آرڈیننس جاری کردیا گیا۔پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اثاثوں کے انتظام، تجارتی استعمال، فروخت، لیز، جوائنٹ وینچر اور نجی سرمایہ کاری کو ایک مرکزی نظام کے تحت لانے کیلئے پنجاب اثاثہ جاتی انتظامی اتھارٹی آرڈیننس 2026 جاری کردیا، محکمہ قانون نے آرڈیننس جاری کیا جسکے تحت Asset Management Authority of Punjab(AMAP)قائم کر دی گئی۔، جسے سرکاری اثاثوں کی نشاندہی، منتقلی، ویلیوایشن، فروخت، لیز، رہن، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری کے منصوبے تیار کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہونگے ۔آرڈیننس کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب اتھارٹی کے چیئرمین ہونگے جبکہ سینئر ممبر بی اوآر، چیئرمین پی اینڈڈی بی ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ہاسنگ، سیکرٹری بلدیات، پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر اعلی افسر اسکے ارکان ہونگے ۔ وزیراعلی اتھارٹی کے ایم ڈی کا تقرر کرینگی۔آرڈیننس کے تحت اتھارٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مختلف سرکاری محکموں، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے ایسے اثاثوں کی نشاندہی کرے جنہیں سرمایہ کاری یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں