فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈویثر نل صدر پاکستان سنی تحریک وحید احمد کمبوہ ۔صدر مرکزی میلاد کمیٹی الحاج منیر احمد نورانی کی قیادت میں علما و مشائخ ۔ سجادہ نشیں مزارات اولیا نے آر پی او چوہدری سہیل اختر سکھیراسے اہم ملاقات کی، جرائم پیشہ افراد کیخلا ف جاری منشیات مہم میں علما اور مشائخ کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کا اعلان۔ وفد میں پیر سید عارف اللہ شاہ بخاری۔ صاجزاہ ذیشان سعید۔ پیر سید احسان علی شاہ۔ پیر سید ثاقب حسین شاہ۔پیر سید زیشان حیدر شاہ ۔ پیرمحمد قمر المعروف با با جی چڑی سائیں ۔ ڈاکڑ پیرمحمد طاہر عباس خضر کھچی ۔ پیر سید محمد اعظم شاہ گیلانی ۔پیر سجاد حسین بخاری ۔ فریاد علی ۔ صاجزادہ ڈاکٹر منصور احمد قطب شاہ اعوان ۔ مہر حافظ محمد ابو بکر۔صاجزادہ پیر محمد قاسم رضا۔محمد اکرام الحق قادری۔محمد طارق چشتی ۔ مفتی محمد اظہر ۔ قاری غلام مصطفی و دیگر موجود تھے۔ ملاقات میں ملک کی دینی، سماجی اور قومی صورتحال، ماہِ ربیع الاول خصوصا جشن میلاد النبی ۖ کی تیاریوں ، نوجوان نسل کی اصلاح، انسدادِ منشیات، تعلیم، صحت اور قومی یکجہتی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جشن میلاد النبی ۖ کی تیاریاں بھرپور مذہبی جوش و جذبے، امن، اخوت اور باہمی احترام کیساتھ کی جائیں۔ مقررین نے کہا کہ میلاد النبی ۖ کے موقع پر معاشرے کے ہر طبقے، بالخصوص علمائ، مشائخ، تاجر برادری، صنعت کار، طلبہ، نوجوان اور سماجی تنظیموں کو اپنا مثبت، مثر اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ حضور نبی اکرم ۖ کی تعلیماتِ رحمت، محبت، امن اور اخوت کو عام کیا جا سکے۔شرکا نے کہا کہ علما و مشائخ کی دینی، ملی اور قومی خدمات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ علما کرام نے ہر دور میں نوجوانوں، تاجروں، صنعتکاروں اور معاشرے کے تمام طبقا ت کی دینی و اخلاقی رہنمائی کی ہے اور امت کو اعتدال، اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔ملاقات میں انسدادِ منشیات مہم کو قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ منشیات نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے دینی طبقات، علما و مشائخ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصا پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکے۔شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو تمام برائیوں، جرائم اور منفی سرگرمیوں سے بچا کر کھیلوں، تعلیم، ہنر، تحقیق اور مثبت سماجی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلبہ کو جرائم کی دلدل سے بچانے کے لیے علما و مشائخ، تعلیمی اداروں، والدین اور متعلقہ اداروں کو مزید موثر اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ملاقات میں کہا گیا کہ اولیائے کرام کی درگاہوں سے ملنے والا درس محبت، امن، رواداری، خدمتِ خلق اور دین و دنیا کی بھلائی کے لیے عظیم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔




