ایران اور عمان کے درمیان 60 روزہ عبوری معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ اس عارضی انتظام کا مقصد اعتماد سازی’ مذاکرات کے تسلسل اور علاقائی استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے ایک عبوری معاہدہ ہو گیا۔ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر زیادہ کنٹرول کے حوالے سے ایران کے بعض مطالبات پورے کر دے گا۔ اس معاہدے میں عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے کیا گیا ہے جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونیوالے تمام بحری جہازوں کی ٹریفک ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی لین سے گزرے گی جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب کی جانب نکلنے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود سے گزرنے والی جنوبی لین استعمال کرے گی۔ اس 60روزہ مدت کے دوران کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے علاوہ ثالثی کی کوششوں میں قطری’ پاکستانی اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں وائٹ ہائوس بھی فعال طور پر شریک رہا۔ ان دنوں میں ٹرمپ کے ایلچی سٹیووٹکوف’ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدرالیوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ 3ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد تجارتی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات پر کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ صرف جہاز رانی کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق ہو سکتا ہے۔ جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ الگ معاملہ ہے، اگر ایران اور عمان کسی نئے بحری راستے یا مشترکہ انتظام پر متفق بھی ہو جائیں، تب بھی آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایران کے بقول امریکہ اپنی خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکہ کے رویے میں تبدیلی اور اس مبینہ خلاف ورزیوں کے خاتمے پر ہے۔ تاہم معاملات بہت زیادہ پیچیدہ نہیں دکھائی دے رہے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ دونوں ممالک اس کی شرائط پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور باہمی تعاون کو کس حد تک فروغ دیتے ہیں چونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس میں استحکام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر 60 روزہ عبوری معاہدہ اعتماد سازی میں کامیاب رہتا ہے تو یہ مستقبل میں مزید جامع اور مستقل معاہدوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عمان کی روایتی سفارتی ثالثی اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطے خطے میں امن’ استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔




