احسن اقبال کی زیر صدارت پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ( بیورو چیف)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی)کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال، اشیائے خورونوش کے معیار اور ضروری اشیا کی قیمتوں کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے معیار سے متعلق لیبارٹری تجزیاتی رپورٹ پیش کی گئی جو وفاقی وزیر کی ہدایت پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)نے تیار کی جبکہ اس کی مجموعی رپورٹ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے مرتب کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ دل کی بیماریوں اور دیگر غیر متعدی امراض میں تشویشناک اضافے خصوصا نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر خوراک کے معیار کو قومی اہمیت کا معاملہ سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں، علاقائی انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں کھلے (غیر پیک شدہ)خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے معیار کا بھی جامع سائنسی سروے کیا جائے تاکہ عوام کو فراہم کی جانے والی ان بنیادی غذائی اشیا کے معیار، علاقائی رجحانات اور ممکنہ صحت کے خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف خامیوں کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ ہر شہری کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی صحت کو اقتصادی اور ریگولیٹری پالیسی سازی کا بنیادی محور بنایا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے مجموعی 491 نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 315 نمونے قومی معیار کے مطابق قرار پائے جبکہ 176 نمونے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکے، جو تقریبا 36 فیصد عدم مطابقت کی شرح بنتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 204 بناسپتی گھی کے نمونوں میں سے 98، 146 بلینڈڈ کوکنگ آئل میں سے 40، 104 پیک شدہ مائع دودھ میں سے 26، 18 خشک دودھ (ملک پاڈر)میں سے 8، 4 ریفائنڈ پام آئل میں سے 3 اور 13 ریفائنڈ کینولا آئل میں سے ایک نمونہ مقررہ قومی معیار کے مطابق نہیں پایا گیا۔وفاقی وزیر نے لیبارٹری نتائج کا مزید سائنسی جائزہ لینے کے لئے وزارتِ منصوبہ بندی، پی سی ایس آئی آر اور پی ایس کیو سی اے کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی تکنیکی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جو شواہد کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرکے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو پیش کرے گی تاکہ مناسب ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات کئے جا سکیں۔اجلاس میں ملک کی مہنگائی کی مجموعی صورتحال، ماہانہ اور ہفتہ وار قیمتوں کے رجحانات، تھوک و پرچون قیمتوں کے فرق، بین الاقوامی و مقامی سطح پر ضروری اشیا کی قیمتوں، ایل پی جی کی قیمتوں اور سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس)نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9.2 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ 11.1 فیصد تھی، اس طرح مہنگائی میں تقریبا 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قدرتی گیس مہنگائی میں اضافے کا سب سے بڑا سبب رہی جبکہ رہائش، آٹا، تازہ دودھ اور پٹرول کی قیمتوں نے بھی مہنگائی پر دبا برقرار رکھا۔ دوسری جانب چینی، آلو اور مرغی کی قیمتوں میں کمی سے مجموعی مہنگائی میں اعتدال آیا۔پروفیسر احسن اقبال نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مہنگائی کے بنیادی عوامل کی مسلسل نگرانی کی جائے اور بروقت پالیسی اقدامات تجویز کئے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ ان اشیا پر مرکوز ہونی چاہئے جو عام شہری کے گھریلو بجٹ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔اجلاس میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے مختلف شہروں میں تھوک اور پرچون قیمتوں کے نمایاں فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی سپلائی نظام کے باوجود صارفین مختلف علاقوں میں ایک ہی شے مختلف قیمتوں پر خریدنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ان فرق کی وجوہات کا جائزہ لے کر عملی سفارشات پیش کریں تاکہ تھوک و پرچون قیمتوں کے درمیان غیر ضروری فرق کم کیا جا سکے، منڈیوں میں شفافیت کو فروغ دیا جائے اور ضروری اشیا عوام کو منصفانہ قیمتوں پر دستیاب ہوں۔اجلاس میں خام تیل، سویا بین آئل، چاول، گندم، چینی، کھاد اور یوریا سمیت اہم عالمی اجناس کی قیمتوں کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ ان کے ملکی منڈی پر ممکنہ اثرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ، خوراک کے معیار کی بہتری اور قیمتوں میں استحکام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں