44کروڑ 66لاکھ کا مبینہ فراڈ بلنک کیپٹل کیخلاف بڑا ایکشن

اسلام آباد (بیوروچیف) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بلنک کیپٹل مینجمنٹ کے خلاف مبینہ غیر قانونی فنڈز جمع کرنے اور پونزی اسکیم چلانے کے معاملے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ تحقیقات میں کمپنی کے ذریعے سرمایہ کاروں سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق بلنک کیپٹل مینجمنٹ نے سرمایہ کاروں کو فکسڈ منافع کی یقین دہانی کراتے ہوئے فنڈز حاصل کیے۔ یہ رقم پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے نام پر وصول کی گئی، تاہم فنڈز کمپنی اور اس کی انتظامیہ کے ذاتی بینک اکانٹس میں جمع کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تحقیقات کے دوران بلنک کیپٹل کے سی ای او، ڈائریکٹرز اور بعض ملازمین کے اکانٹس میں بھی مبینہ طور پر فنڈز کی غیر قانونی منتقلی سامنے آئی۔ ایس ای سی پی کے مطابق تحقیقات میں مجموعی طور پر 44 کروڑ 66 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ایس ای سی پی نے بتایا کہ معاملے میں ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے سیکشن 41 بی کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ مزید تحقیقات اور متاثرہ سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کو بھجوانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں