شہنشاہ موسیقی استاد نصرت فتح علی خان کی29ویں برسی آج

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر ) شہنشاہ موسیقی اور قوالی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی آج29 ویں برسی منائی جا رہی ہے ،ان کے مداحوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی جھنگ روڈوالے قبرستان میں ان کی قبر پر فاتحہ خوانی’13اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان نے اپنے استاد مبارک علی خان سے موسیقیکی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے قوالی کی دنیا میں اپنا نام بنایا۔نصرت فتح علی خان کی” دم مست قلندر علی علی” جیسی قوالیاں دنیا بھر میں مقبول ہوئیں اور انہوں نے صوفیانہ کلام کو نئی نسل تک ایک نئے انداز میں پہنچایا۔” حق علی علی” سے ملنے والی پہلی عوامی پذیرائی کے بعد انہوں نے ایک ہزار سے زائد قوالیاں، 125 البمز ریلیز کیے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا کر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن کر ملک کا نام روشن کیا۔1995 ء میں کینیڈا کے گٹارسٹ مائیکل بروک کے ساتھ ان کے فیوژن پروجیکٹس اور پیٹر گیبریل کے ساتھ البم “مست مست” نے انہیں عالمی سطح پر موسیقی کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔پرائیڈ آف پرفارمنس، یونیسکو میوزک ایوارڈ سمیت دنیا کے کئی بڑے اعزازات استاد نصرت فتح علی خان کے نام ہوئے۔ وہ پاکستان کے لیے ایک ایسے فن کے سفیر تھے، جنہوں نے مشرق اور مغرب کے سنگیت کو ایک ہی دھڑکن میں جوڑ دیا جبکہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی ان کے چرچے ہوئے اور انہوں نے بھارتی فلموں کیلئے بھی کئی گیت گائے۔استاد نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن میں انتقال کر گئے تھے۔ اور ان کو فیصل آباد میں جھنگ روڈ والے قبرستان میں سپرخاک کیا گیا ، آج مداح ان کی 29ویں برسی عقیدت و احترام کیساتھ منا رہے ہیں۔ نصرت فتح علی خان کی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور آج بھی مداح ان کی آواز سن کر جھوم اٹھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں