رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ارتقائے انسانیت

ارتقا کا ایک عمل ہے اور اس عمل کا نقطہ آغاز سیدنا آدم اور حوا کا ظہور ہے اور یوں کائنات کا ارتقائی عمل آگے کو بڑھتا ہے۔ ہر چیز کی ایک معراج ہوتی ہے اور نبوتۖ اور رسالت کی معراج حضرت سیدنا محمد الرسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آپۖ خاتم النبیین ہیں۔ آپۖ رحمتہ اللعالمین بھی ہیں اور آپۖ کی بدولت کائنات ارض وسما پر رحمتوں اور عنایات کا سلسلہ مکمل ہوا۔ دین متین بھی قرآن مجید کی صورت میں نازل ہو گیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ”الیوم اکملت لکم دینکم (آج ہم نے آپۖ کے لئے آپۖ کا دین مکمل کردیا)” روایات سے ثابت ہے کہ آپۖ وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ خلق کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت مسلم ہے کہ اس آپۖ کی ہستی بے مثل اور بے نظیر ہے۔ آپۖ کا حسن وجمال، صبروتحمل، زہد وتقوی، علم وحکمت، مہرووفا اور کیا کیا کہیں بلکہ پیر سید مہر علی شاہ نے کیا خوب فرمایا ہے (جس شان تھیں شاناں سب بنیاں) بارگاہ رسالت مآب میں بھی پیش ہونے کے باقاعدہ آداب اللہ تعالی نے بتائے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے اونچی آواز نہ کرو۔ ان کے فیصلوں اور رائے سے پہلے اپنا فیصلہ اور رائے نہ دو۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو عام لوگوں کی طرح نام لے کر نہ پکارو بلکہ آپۖ کے لئے احترام کے الفاظ استعمال کریں۔ حجرہ مبارک کے باہر آپۖ کا نام لینا یا شور مچانے کو منع فرمادیا گیا اور حکم ہے کہ آپۖ کے خود باہر تشریف لانے کا انتظار کریں۔متذکرہ بالا احکامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول کی اطاعت ہم سب پر کتنی لازم ہے اور اس سلسلے میں ہمیں حساسیت کا احساس دلایا گیا ہے۔ ویسے بھی اللہ اور اللہ کے رسولۖ کی اطاعت اور اتباع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ آپۖ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قابل ذکر ہے۔ آپۖ نے چالیس سال کی عمر میں نبوت کا اعلان فرمایا اور اس سے پہلے بھی آپۖ نے اپنے آپۖ کو ایک مکمل انسان کے طور پر عرب معاشرے کے سامنے پیش کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آپۖ سے فیصلے کرواتے تھے۔آپۖ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے اور آپۖ سارے مکہ کے لوگوں کے لئے اپنی مثال آپ تھے اور آپۖ کی مثل کوئی نہیں تھا۔ اس دوران بھی آپۖ کے ہاں یقینا عبادات کے سلسلے بھی تھے آپۖ مسلسل غار حرا میں جا رہے تھے اور اس کے علاوہ آپۖ نے معاملات کا ایک معیار قائم کردیا تھا جس طرح کہ مذکورہ سطور میں بیان کیا گیا ہے۔ نبوت کے اعلان کے بعد تو خیر آپۖ کا باقاعدہ رشدوہدایت کا کام شروع ہوا اور قرآن مجید اور آپۖ کی احادیث کی شکل میں محفوظ ہوا۔ اس کو مکمل ضابطہ حیات کہتے ہیں۔ سارے انسان خواہ وہ کسی بھی حیثیت میں ہوں آپۖ کی زندگی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آپۖ کی فہم وفراست۔ آج پوری دنیا کے حکمرانوں کے سامنے ہے۔ آپۖ کا جنگوں میں بطور کمانڈر شریک ہونا اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت عملی۔ کاش آج کے سب فوجی سربراہان آپۖ کی زندگی کا مطالعہ کرتے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دشمن سے معاہدے بھی کئے اور ان معاہدوں پر عملدرآمد کرنے کا آپۖ کا منفرد اور یکتا انداز۔ آج کے سب ممالک کے سربراہان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ آپۖ کا حجتہ الوداع کا خطبہ اور آپۖ کے احکامات۔ انسانیت کے سارے مسائل ختم کرنے کے لئے ساری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں اور آپۖ کی میثاق مدینہ کے موقع پر بصیرت اور دانائی۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خوبصورت اور قابل عمل ماڈل۔ آپۖ کا انداز حکمرانی اور ویلفیئر سٹیٹ کی عملی شکل۔ آپۖ کی تربیت میں رہنے والے لوگ اور ان لوگوں کا اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں سنجیدہ رویہ۔ ہم سب آج بھی اللہ اور رسولۖ کی تعلیمات کو عام کرنے میں سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر معاملات کے سلسلے میں پورے شدومد سے عملدرآمد اور عملدرآمد کے بارے میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہونا۔ کاش کوئی محمد عربی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھے ہمارا آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہی معاملات ہیں اور اس مسئلے کو ہمارے خلاف بطور چارج شیٹ پیش کیا جاتا ہے۔ ہم عبادات پر ہمارا پوری توجہ دیتے ہیں لیکن معاملات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے ہیں۔ہمارے ہاں حلال اور حرام کے بھی اپنے معیارات قائم ہوچکے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں۔ اپنے ہی بھائیوں کی دل آزاری کررہے ہیں۔ ایک دوسرے سے فراڈ اور دھوکہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ کینہ پروری، غیبت، حسد اور بغض جیسی برائیوں نے ہمارے سارے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ یہ سارا کچھ اور ہمارا عبادات میں دلچسپی لینا خلاف عقل ہے۔ اسلام کا عبادات کا نظام بنیادی طور پر ہم سب کو معاملات کے لئے تیار کرتا ہے اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا شعوری احساس نہیں ہے جس وجہ سے عبادات کے مطلوبہ نتائج ہم حاصل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ علم و تحقیق کی دنیا میں بھی ہم پیچھے رہ گئے ہیں اس کی بھی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم بھول گئے ہیں کہ ہمارے ہادی برحق صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے علم کی اہمیت پر کتنا زور دیا۔ انہوں نے تو سب مردوں اور عورتوں پر علم کا حصول فرض کر دیا۔ انہوں نے تو ہمیں علم کے حصول کے لئے یہ بھی حکم دیا کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ مگر ہم نے سیرت طیبہ کا آنکھیں کھول کر مطالعہ نہیں کیا ہے اور قرآن مجید کو ویسے بھی ہم نے ثواب تک محدود کردیا اور اب ہم مسلمانوں کے حالات وواقعات، مجموعی صورتحال اور سوچ کا معیار۔ اللہ تعالی ہمیں ہدایت عطافرمائیں۔ لیکن دعائوں سے مسائل نہیں ختم ہوتے اور نہ ہی شب ہجراں دعائوں سے کٹتی ہے۔ ان سارے کاموں کے لئے عملی طور پر متحرک ہونا پڑتا ہے۔ اپنی نوجوان نسل کو اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے مطالعہ کا درس دینا پڑتا ہے۔ انہیں یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ غیر مسلم بھی علم اور عمل کے اعتبار سے آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نمبر ون کہتے ہیں اور ہم مسلمانوں نے بھی اتباع رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کرکے دیگر اقوام کے مقابلے میں اپنے آپ کو نمبر ون ثابت کرنا ہے تب جا کر ہمیں جو خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حکم دیا گیا تھا کہ یہ پیغام ہم نے ساری دنیا اور رہتی دنیا تک پہچانا ہے اس حکم کی تعمیل ہوگی۔
بقول راقم الحروف
جس سے ہلچل مچے قصر اغیار میں
کوئی جدت وہ لا اپنے افکار میں
اے مسلمان! بیدار ہو، ہوش کر
وقت ضائع نہ کر بحث بیکار میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں