ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات ہر وقت ہماری انگلیوں پر موجود ہیں، مگر افسوس کہ معلومات کی فراوانی کے باوجود شعور کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے دنیا کو ہمارے قریب کر دیا ہے، لیکن کیا ہم واقعی اپنے معاشرے، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی اتنے ہی باخبر ہیں ؟ شاید نہیں۔ اسی لیے آج سب سے زیادہ ضرورت ایک آواز کی ہے: *جاگ جا !* جاگنے کا مطلب صرف نیند سے بیدار ہونا نہیں۔ جا گنے کا اصل مطلب اپنے اردگرد کے حالات کو سمجھنا، صحیح اور غلط میں فرق کرنا، اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی پہچاننا اور معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ہم اکثر اپنے معاشرے کے مسائل کا ذمہ دار حکومت، اداروں یا دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔ مہنگائی ہو تو حکومت ذمہ دار، گندگی ہو تو انتظامیہ ذمہ دار، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو تو دوسرے ذمہ دار اور جھوٹی خبریں پھیلیں تو سوشل میڈیا ذمہ دار۔ لیکن ہم خود سے یہ سوال بہت کم کرتے ہیں کہ *ہماری اپنی ذمہ داری کیا ہے؟*شعور کا آغاز اسی سوال سے ہوتا ہے۔اگر ہم سڑک پر ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، کچرا سڑک پر پھینکنے سے گریز کریں، پانی اور بجلی ضائع نہ کریں، درخت لگائیں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے آگے نہ پھیلائیں تو ہم اپنے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز کر سکتے ہیں۔آج کے دور میں سوشل میڈیا awareness کے ساتھ ساتھ misinformation کا بھی ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ چند سیکنڈ میں ایک جھوٹی خبر ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی تصویر، ویڈیو یا خبر کو دیکھ کر فوراً یقین کر لینا اور اسے دوسروں تک پہنچا دینا ذمہ دار شہری کا رویہ نہیں۔ ہمیں خبر شیئر کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کیا یہ درست ہے؟ کیا اس کا کوئی معتبر ذریعہ موجود ہے؟ کیا اس خبر سے کسی شخص یا معاشرے کو نقصان تو نہیں پہنچ سکتا؟نوجوانوں کے لیے بھی یہ پیغام انتہائی اہم ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وقت، توانائی اور صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر نوجوان اپنی صلاحیت کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کریں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی صلاحیت بے مقصد سرگرمیوں اور صرف سوشل میڈیا کے استعمال میں ضائع ہو جائے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہوتا ہے۔Awareness کا مطلب صرف دوسروں کو نصیحت کرنا بھی نہیں۔ حقیقی شعور یہ ہے کہ انسان پہلے اپنے اندر تبدیلی لائے۔ ہم ایمانداری کی بات کریں تو خود ایماندار بنیں، صفائی کی بات کریں تو خود صفائی کا خیال رکھیں، قانون کی بات کریں تو خود قانون کی پابندی کریں اور تعلیم کی اہمیت بیان کریں تو اپنے بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کریں۔ایک باشعور معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ جہاں اختلاف دشمنی نہیں بنتا، سوال کرنا جرم نہیں سمجھا جاتا اور سچ بولنے والے کو خاموش کرانے کے بجائے اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی۔ تبدیلی چھوٹے چھوٹے اقدامات سے جنم لیتی ہے۔ ایک فرد کا درست قدم دوسرے کے لیے مثال بنتا ہے، ایک گھر کی اچھی تربیت پورے معاشرے پر اثر ڈال سکتی ہے اور ایک باشعور نوجوان اپنے اردگرد کے کئی لوگوں کو بیدار کر سکتا ہے۔آج ہمیں ایک دوسرے کو الزام دینے سے زیادہ ایک دوسرے کو جگانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں، نوجوانوں اور معاشرے کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ہمارا ملک صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔*جاگ جا!*اپنے حق کے لیے، اپنے فرض کے لیے، اپنے معاشرے کے لیے اور اپنے آنے والے کل کے لیے۔ کیونکہ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں؛ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب انکے افراد باشعور، ذمہ دار اور بیدار ہوتے ہیں۔*آج اگر ہم جاگ گئے تو کل ہمارا معاشرہ بہتر ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والا وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔




