مسبب الاسباب اللہ تعالی کی ذات ہے۔ انسان کا بھی دنیا میں ایک کردار ہے اور اسے یہ کردار نبھانا ہوتا ہے جس سے نئے نئے واقعات رونما ہوتے ہیں اور حالات ایک نیا رخ اختیار کرجاتے یوں سارے کا سارا منظر ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ برصغیر پاک وہند میں انگریزوں کا شب خون، مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ اور ہندوں کی مسلمانوں کے لئے مخاصمت کے جذبات اور معاندانہ رویہ۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال یکسر تبدیل۔ ناقابل یقین اور انتہائی مایوس کن صورتحال۔ رات ہنیری گھپ ہنیرا۔ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سر سید احمدخان کا ایک نئے انداز سے سوچنا اور مسلمانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لئے علی گڑھ کالج کا قیام اور مسلمانوں کو سیاست سے فی الحال دور رہنے کی نصیحت اور انگریزوں سے تصادم سے احتراز۔ مسلمان قوم کی بحیثیت قوم تعلیم وتربیت وقت کی اہم ضرورت تھی۔ یوں دوقومی نظریہ کے اظہار کی ضرورت اور پھر زندگی کا آگے بڑھتا ہوا تسلسل۔ قائداعظم محمد علی جناح کی ہوشمندی، بصیرت، تدبیر، ریاضت، جرات اور زبردست حکمت عملی ایک نئی ریاست کا قیام۔ پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں۔ مبارک بادیں۔ ڈھول ڈھمکے، شرلیاں پٹاخے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے ایک نئے دور کا آغاز۔ بلاشبہ آغاز میں ہر کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ ہر چیز جیب میں نہیں ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی ڈھاک مار کر آگے بڑھنے کی کوشش میں اپنی ہی قوم کا نقصان کرجائیں۔ دشمن بھی تاک لگائے بیٹھا ہو۔ اور کشتی کا ملاح تھک گیا ہو اور ان کی صحت ساتھ نہ دے رہی ہو اور بالآخر وہ بھی زندگی کی بازی ہار جائیں اور اس کے بعد ہر کوئی اقتدار کے پیچھے پڑجائے۔ ان حالات کو ہر ایک پر واضح کرنے کی ضرورت ہمیشہ ہی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی تاکہ میری طرح ہر پاکستانی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور آگے دیکھ کر پائوں اٹھائے۔ آگے بڑھنے کے بھی کچھ اصول ہیں اور ہر صورت میں اصولوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے نہیں تو 1971 آجاتا ہے۔ ہم سب حکومت بنانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ دشمن اپنی چال چلتا ہے اور خون دے کر لیا جانے والا ملک دولخت ہوجاتا ہے۔ بقول حفیظ تائب( رو رو کے ہوگئیاں اکھیاں لال کملی والیا۔۔۔تکیا جائے ناں دل دا حال کملی والیا۔۔۔قلعہ تیرے دین دا کجھ ڈھہہ گیا کجھ ڈولیا۔۔۔۔رل کے چلی دشمناں اوہ چال کملی والیا) ہم مسلمان ہیں اللہ تعالی اور پیغمبر برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ تعلیمات مکمل ضابطہ حیات ہیں۔ اس ضابطے میں ہمارے لئے ہر قسم کی راہنمائی ہے۔ ہم نے کامیابی کی صورت میں کیسے خوشی کا اظہار کرنا ہے۔ ناکامی کی صورت میں ہمارا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ مستقبل کی پیش بندی کیسے ہوگی اور اپنے آپ کو آنے والے حالات کے لئے کیسے تیار کرنا ہے۔ دوست اور دشمن کے ساتھ کیسے معاملات کرنے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب یہ سارا کچھ کتابی شکل میں موجود ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے بلکہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے۔ درحقیقت مسئلہ نیتوں کا ہے، مسئلہ مذکورہ صورتحال کے بارے میں پوری قوم میں شعوری احساس بیدار کرنے کا ہے بلکہ یوں کہنا بیجا نہ ہوگا کہ پاکستانی قوم کو نئے سرے سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ قوم بیدار تب ہوگی جب ہم میں سے ہر شخص قربانی دینے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوجائیگا۔ جان کی قربانی دینے کی بھی شاید ضرورت کم پیش آئے۔ انا کی قربانی دینا ہوگی، ذاتی مفادات کی قربانی دینا ہوگی اور منفی سوچ کی قربانی دینا ہوگی۔ یہ بظاہر بڑے لیول کی قربانیاں نہیں ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گراس روٹ لیول یہی بنتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے ایک بہت بڑا کام ہوجاتا ہے اور ایسے کام کو انقلاب کہتے ہیں۔ سوچ کی تبدیلی ہی انقلاب کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد، مسلمانوں کا بات کو سمجھ جانا اور ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجانا اور پھر پاکستان کا جشن ہر سال منایا جاتا ہے۔ بڑی بڑی تقاریب اور جشن کا سماں۔ مسائل اپنی جگہ جوں کے توں۔ ہم جوں کی رفتار سے ویسے بھی ترقی کررہے ہیں۔ نقاد تو یہ بھی ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ہم ترقی کر بھی رہے ہیں یا کہ نہیں۔ سوالیہ نشان ہمارے سامنے ہے اور اس سوالیہ نشان کو آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بزرگ کہتے ہیں اپنے آپ کو دیکھو اور غور سے دیکھو حضرت علامہ محمد اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ( اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی) سراغ زندگی ہی تو یوم آزادی کے دن پہلے اپنے آپ کو اور پھر دوسروں کو بتانے کی ضرورت ہے بلکہ ضرورت تو اس بات کی بھی ہے کہ اپنے آپ پر سراغ زندگی کی کہانی لاگو کرکے دوسروں کے سامنے ماڈل پیش کیا جائے۔ مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے ایسا کون کرے گا۔ مختلف قسم کی بحثوں نے ہماری ویسے ہی مت ماردی ہے اور اوپر سے بقول راقم الحروف (ہر کوئی اسپ انا پر تھا سوار۔۔۔ اس لئے خود کو پیادہ کر لیا) خود کو پیادہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ جوتیاں اتارنے کی ضرورت ہے اور وہ اس لئے نہیں کہ اپنی جوتیاں ہی ایک دوسرے کے سروں پر مارنا شروع کردی جائیں بلکہ جوتیاں اتار کر ہی آگے کو دوڑا جا سکتا ہے۔آگے دوڑ پیچھے چوڑ کے فلسفے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ متذکرہ بالا باتیں کھل کھلا کر اپنوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔ ویسے تو ہمارا دین یہ کہتا ہے کہ ساری دنیا کی امامت کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے اور صوفی برکت علی لدھیانوی رحمہ اللہ علیہ نے بھی فرمایا تھا کہ ساری دنیا کے فیصلے پاک سر زمین پر ہوں گے۔ شاید اسی لئے ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ پاکستان میں آکر ہی کرنا پڑا تھا۔ خیر جنگ مذکور کا خاتمہ ہوا ہے یا نہیں یہ بات تو طے ہو چکی ہے کہ اس جنگ میں ٹھہرائو پاکستان کے کردار کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے اور اس وقت تک کے حالات وواقعات کے مطابق جو کام اقوام متحدہ نے کرنا تھا اور وہ یہ کام کرنے میں ناکام ہوا ہے وہ کام پاکستان نے کردکھایا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ، نیٹو اور وارسا پیکٹ۔ ان تینوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں جو کام امریکہ اور روس کرتا تھا۔ الحمد اللہ اب ہم کرنے جارہے ہیں۔ آج کا پاکستان اور پوری دنیا کا منظر نامہ۔ ہماری ہمیشہ سے ہی ایک اہمیت رہی ہے اب تو ہم مزید معتبر اور مستند ہو گئے ہیں اور ان حالات میں ہمیں اپنی استعداد کو مزید بڑھانا ہوگا اور یہ بات ہر پاکستانی کو بتانا ہوگی بلکہ ان کو اس بات کی حساسیت کا احساس دلانا ہوگا تاکہ ہم مایوسی چھوڑیں اور اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ چھوٹے موٹے اختلافات کو بھول جائیں۔ اپنے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنے میں ڈنڈی مارنا ختم کردیں۔ یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ سب نے حکمران نہیں بننا ہوتا اور حکمرانوں پر بھی واضح ہونا چاہیئے کہ سدا اقتدار اللہ تعالی کا ہے۔ حکومت اور عوام۔ تیجا نہ کو۔ بلکہ عوام ہی عوام۔ لہٰذا دو قومی نظریہ، پاکستان کا سیاسی نظام، طرز حکمرانی اور موجودہ ترقی یافتہ دنیا کا انداز جہاں بانی۔ عمیق مطالعہ کی ضرورت ہے۔ بقول حضرت اقبال (اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے۔۔۔مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے)




