آمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

اﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہابار شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر ربیع الاوّل کی بابرکت ساعتیں نصیب فرمائی ہیں، عاشقان مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے استقبال ربیع الاوّل کے لیے خصوصی انتظامات کئے اور ہر طرف آمد مصطفیۖ مرحبا مرحبا کی صدائیں گونج اُٹھیں، اس ماہ مقدسہ کے شروع ہوتے ہی جگہ جگہ محافل میلاد مصطفیۖ کے انعقاد کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے جہاں سیرت طیبہ بیان کی جاتی ہے، درود وسلام کی کثرت سے فیوض وبرکات حاصل کیے جاتے ہیں اور نعت خواں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں’ بے شک! مدینے کے چاند صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل دنیا منور اور انسانوں کے دل بھی روشن ہو گئے، ولادت مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانا امت مسلمہ کے نزدیک اﷲ تعالیٰ کے عظیم احسان کا شکرانہ، عشق رسولۖ کا عملی اظہار اور خوشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، ماہ ربیع الاوّل میں درود شریف کی کثرت کرنا بہت بڑی خوش بختی ہے، اگرچہ درود شریف پورے سال پڑھنا چاہیے لیکن اس مہینے میں محبوب خدا، حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ولادت کی وجہ سے ذکر واذکار اور درود شریف کا اہتمام محبت وعقیدت کا بہترین ذریعہ ہے، ربیع الاوّل درود شریف کی کثرت کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے، عاشقان مصطفیۖ اس مقدس مہینے میں درود شریف پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ امت پر نازل ہونے والی مشکلات رحمتوں میں بدل جائیں، درود شریف کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ درود پاک پڑھوں اہتمام کے ساتھ’ بے شک! اﷲ پاک اور اس کے فرشتے بھی درود بھیجتے رہتے ہیں، تو یہ حکم عام ہے، یہاں بھی پڑھنا ہے، گھروں میں بھی پڑھنا ہے، راستے میں بھی پڑھنا ہے، لیکن مدینہ منورہ میں کیا کرنا ہے؟ وہاں تو پڑھنا ہی پڑھنا ہے کیونکہ مدینہ منورہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا شہر ہے، لہٰذا وہاں پر اگر کوئی نہ پڑھے تو بات بڑی ہی عجیب ہو گی، مدینہ منورہ آپ کا شہر ہے وہاں درود شریف کی کثرت کرنا عظیم سعادت ہے تو ربیع الاوّل میں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، اس ماہ مقدسہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس موقع پر درود شریف کی کثرت کرنا دنیا وآخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کابہترین ذریعہ ہے، محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھنا، عظمت، سکون اور بے شمار رحمتوں کا ذریعہ ہے، ایک بار درود شریف پڑھنے پر اﷲ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، دس گناہ معاف اور دس درجات بلند ہوتے ہیں، یہ عمل اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، درود پاک پڑھنے والے کیلئے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں، کثرت سے درود پاک پڑھنے والوں کو قیامت کے دن آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا قرب حاصل ہو گا جبکہ درود شریف پریشانیوں، غموں سے نجات اور حاجتیں پوری ہونے کے لیے ایک بہترین عمل ہے، عیدمیلادالنبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانا دراصل محبوب خدا حضرت محمد مصطفیۖ سے محبت وعقیدت کا عملی اظہار ہے۔ آپۖ ہی کل کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بن کر تشریف لائے، آپۖ ہی اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں، آپ ہی نبی آخر الزمانۖ ہیں اور آپۖ کی ولادت تمام مخلوقات پر اﷲ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے’ عیدمیلادالنبیۖ کی خوشیاں منانا تشکر الٰہی اور قلب ونظر کو منور کرنے والا مبارک عمل ہے، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کے فضل اور رحمت پر خوشی منائیں اور حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بڑی رحمت کوئی نہیں، آپۖ کی ولادت باسعادت کی خوشی دراصل خالق کائنات کی دی گئی اس نعمت عظمیٰ پر شکر کا اظہار ہے’ اس ماہ مبارک میں محافل پاک کے انعقاد سے گھروں اور معاشرے میں امن’ خیر اور سکون کا نزول ہوتا ہے، محافل میلاد پاک میں آقا کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے، درود وسلام کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں، خوشی کے اس موقع پر صدقہ وخیرات کر کے غریبوں کی مدد کی جاتی ہے اور لنگر شریف کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، ماہ ربیع الاوّل کی بارہویں تاریخ اور پیر کے مبارک دن محسن کائنات’ روح کائنات’ تاجدار ختم نبوت’ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس بزم عالم میں جلوہ گر ہوئے، آپۖ کی آمد سے ہر طرف نور پھیل گیا، ہر سمت روشنی چھا گئی، ہر سمت اجالا ہو گیا، آپۖ آئے تو سارے جہان کو نور نبوت اور شمع رسالت سے روشن کر دیا، بے شک! تمام نعمتوں کی اصل سیدنا محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے، سو جس دن یہ عظیم نعمت حاصل ہوئی، وہ تمام عیدوں سے بڑھ کر عید ہے، اسی لیے ہم محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت پر عیدمیلادالنبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم مناتے ہیں، اس موقع پر انتہائی محبت وعقیدت’ جوش وخروش اور ذوق وشوق سے خصوصی اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جن میں آپ کی ولادت مبارکہ، آپ کی سیرت طیبہ، آپۖ کے معجزات اور عظمت وفضائل بیان کئے جاتے ہیں اور آپۖ کی بارگاہ میں درود شریف’ گلہائے نعت شریف اور صلوٰة وسلام کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے، حضور سید عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس بزم جہان میں پیر کے دن تشریف لائے، اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اظہار تشکر کے لیے ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے، حضرت ابوقتادہ سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یارسول اﷲ، آپ ہر پیر کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ وہ دن ہے جس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی الٰہی نازل ہونے کی ابتداء ہوئی، اس سے ظاہر ہوا کہ آپۖ نے خود اپنے یوم میلاد کی عظمت واہمیت کو اجاگر کیا، اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کو احسان کے طور پر ذکر کیا، بے شک! آپۖ کی آمد عالم انسانیت پر اﷲ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے اور اس پر شکر ادا کرتے ہوئے عاشقان مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہر سال پہلے سے بڑھ کر عیدمیلادالنبی مناتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے کرم وفضل پر خوشی منانے کا یہ سلسلہ اسی عقید ت واحترام اور جوش وجذبہ سے جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں