قدرتی آفات سے متاثرین کی مستقل بحالی کی ضرورت (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے فصلوں کی پیداوار کے قومی تخمینوں کا جامع پلان مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی معاونت ترجیح ہے۔ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، زرعی تحقیق کو مزید فعال بنایا جائے اور چھوٹے کسانوں کو زرعی جدت سے استفادہ یقینی بنایا جائے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ چین سے زرعی تربیت کے بعد طلباء کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے، چین میں تربیت کے لیے طلباء کے انتخاب میں میرٹ کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فصلوں کی پیداواری کے قومی تخمینوں کا جامع پلان مرتب’ این اے آر سی اور پی اے آر سی کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے جبکہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم بھی دیا گیا ہے، حالیہ بارشوں کی وجہ سے جہاں دوسرے لوگ متاثر ہوئے ہیں وہاں پر چھوٹے کسان بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور ان کا مالی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا ہے۔ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہونیوالے نقصانات سے متعلق اجلاس بھی ہوا۔ جس میں وزیراعظم کو مون سون کے اثرات اور امدادی کارروائیوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی وزراء اور سیکرٹریز متاثرہ علاقوں میں جا کر بحالی کا کام شروع کروائیں۔ متاثرین تک غذائی اشیاء اور امدادی سامان جلد ازجلد پہنچایا جائے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا بھی حکم دیا گیا۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث فصلوں’ مویشیوں اور زرعی انفراسٹرکچر کو ہونیوالے نقصانات نے پہلے ہی مشکلات سے دوچار کسانوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا شفاف سروے کروا کر کسانوں کو مالی امداد’ بیج’ کھاد اور دیگر ضروری زرعی سہولیات فراہم کرے۔ اسی طرح متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنے معمولات زندگی بحال کر سکیں۔ قدرتی آفات کے موقع پر حکومتی امداد محض مالی معاونت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ متاثرین کی مستقل بحالی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، کسان خوشحال ہو گا تو زراعت مضبوط ہو گی اور معیشت کا پہیہ بھی تیزی سے چلے گا، وزیراعظم کی ہدایات پر مؤثر عملدرآمد’ شفاف امدادی نظام اور متاثرین تک بروقت وسائل کی رسائی ہی اس مشکل گھڑی میں حکومتی ذمہ داری پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کی سیلاب متاثرین کا ہنگامی بنیادوں پر امداد کرنا یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب اس کے ثمرات صحیح حق داروں تک پہنچائیں جائیں تاکہ چھوٹے کسان اپنے پائوں پر پھر سے کھڑے ہو سکیں اور وہ ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں