سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں رہتے ہو ئے حل کیا جائے (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ملکی سیاسی ماحول میں کشیدگی کم کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے فطری امر ہے، تاہم سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی اور محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔ موجودہ حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو قومی مسائل پر سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اب اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کتنا جلدی تعمیری بات چیت کیلئے تیار ہوتی ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے معاملات کو بیٹھ کر طے کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے ہمیں معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنا ہو گا۔ عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اس لئے جہاں سے بھی ممکن ہو گا حکومت بچت کر کے عام آدمی کو ریلیف دے گی، عوام کو روزمرہ زندگی میں جس نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کیلئے محض سیاسی بیانات کافی نہیں، حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کے دو پہیئے ہیں جو باہم سبک خرام رہیں تو سسٹم کی گاڑی ٹریک پر چڑھی رہے گی اور اس کے ثمرات اس سے وابستہ سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام کو بھی منتقل ہوتے رہیں گے جبکہ عوام کا سسٹم پر اعتماد بھی پختہ ہو گا۔ فروری 2024ء کے انتخابی نتائج کو بنیاد بنا کر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کی فضا بنانے کی گزشتہ دو سال سے کوششیں جاری ہیں جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا تاثر پختہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے عوام کے بڑھتے غربت’ مہنگائی’ بے روزگاری اور توانائی کے بحران کے مسائل بھی اپوزیشن کی تحریک کے لیے فضا سازگار بنا رہے ہیں اور اپنے مسائل پر مضطرب عوام کو اپوزیشن کے لیے اپنی تحریک میں سڑکوں پر لا کر شامل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کو یقینا انہی حالات کے باعث حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور لانگ مارچ کا اعلان کرنے کا موقع ملا ہے۔ بے شک ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور مؤثر گورننس کی بھی ضرورت ہے اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے وجود اور آئینی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ جب حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سیاسی اختلافات سے قطع نظر جمہوریت کی بقاء کو مقدم رکھے گی تو ملک آگے بڑھے گا چنانچہ وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب تمام فریق ایک دوسرے کا مؤقف تحمل سے سننے اور اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار ہوں، ملک کو معاشی استحکام’ سیاسی استحکام اور امن وامان جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لیے سیاسی قوتوں کی باہمی محاذ آرائی کسی صورت سودمند نہیں۔ حکومت کی مذاکراتی پیشکش کو محض سیاسی بیان کی بجائے عملی اقدام میں تبدیل کرنے کیلئے باقاعدہ رابطہ اور اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ ملک کا وسیع تر مفاد اسی میں ہے کہ سیاسی اختلافات کو جمہوریت اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے، اگر سیاسی قیادت ضد اور انا کی بجائے مکالمے’ برداشت اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے تو نہ صرف موجودہ سیاسی کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ملک میں پائیدار جمہوری استحکام کی بنیاد بھی مضبوط ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں