صاف اور محفوظ پینے کا پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن آج بھی بہت سے علاقوں میں عوام کو آلودہ یا غیر معیاری پانی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے گھر گھر صاف پانی پہنچانے کے عزم کا اظہار اس حوالے سے ایک اہم اور قابل تحسین اقدام ہے۔ اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں عملی شکل دی جائے تو اس کے نتیجے میں عوام کو نہ صرف صاف پانی میسر آئے گا بلکہ پانی سے پیدا ہونے والی متعدد بیماریوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت صاف پانی کی فراہمی کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں چکوال’ راولپنڈی’ راجن پور’ فیصل آباد’ مری اور اٹک کے اضلاع میں واٹر سپلائی پائپ لائن پراجیکٹ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ پانی کی قلت کے شکار چکوال کے 8دیہات میں ترجیحی بنیادوں پر واٹر سپلائی پر اتفاق کیا گیا، راجن پور’ جام پور’ چک شگاری اور داجل میں واٹر سپلائی پائلٹ پراجیکٹ کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ چک جھمرہ اور فیصل آباد کے مضافاتی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے پائلٹ پراجیکٹ پر اتفاق بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے آبادی کے مطابق ڈیٹا مرتب اور تصدیق کرنے کی ہدایت بھی کی۔ راجن پور میں فوری طور پر 21 بائوزر مہیا کرنے کی ہدایت کی گئی اور روجھان میں بیوٹیفکیشن اور دیگر پراجیکٹ لانے کا بھی حکم دیا۔ مری میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹینک مہیا کرنے کا حکم دیا اور مری میں نئے واٹر سورس پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ چکوال میں 32 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود، 237 زیرتعمیر اور 15 مثالی گائوں اور 13 ماڈل ویلیج بنائے جا رہے ہیں۔ راولپنڈی میں 246 واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود اور 252 واٹرفلٹریشن پلانٹ نئے لگائے جائیں گے۔ اٹک میں 77 واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود’ 399 زیرتکمیل اور 9مثالی گائوں بنائے جائیں گے۔ راجن پور میں 146واٹرفلٹریشن پلانٹ موجود 191 زیرتکمیل’ 12مثالی گائوں اور ایک ماڈل ویلج بنے گا، مری میں پانچ واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود’ 90زیرتکمیل ہیں۔ فیصل آباد میں 343واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود جبکہ 4سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور 180زیرتکمیل ہیں، مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو پینے کا صاف پانی پہنچانے کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پنجاب کے عوام کو پینے کا صاف پانی گھر گھر پہنچا کر دم لیں گے۔ پنجاب بھر میں جہاں لوگ کندھے پر رکھ کر پانی لانے پر مجبور ہیں، وہی علاقے ترجیحات میں شامل ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ صحت عامہ’ انسانی وقار اور معاشرتی بہبود کا بنیادی تقاضا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ان کی مسلسل نگرانی’ پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ اور خراب نظام کی بروقت مرمت کو بھی یقینی بنائے۔ خصوصاً دور دراز دیہی علاقوں میں جہاں لوگ آج بھی صاف پانی کے حصول کیلئے طویل فاصلے طے کرتے ہیں۔ وہاں ترجیحی بنیادوں پر سہولت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت پنجاب کا گھر گھر صاف پانی پہنچانے کا عزم اسی صورت میں حقیقی عوامی خدمت ثابت ہو گا جب اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے اور ہر علاقے تک پہنچیں۔ عوام کو اعلانات کے ساتھ ساتھ عملی نتائج بھی درکار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبوں میں شفافیت’ معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ پنجاب کے ہر گھر میں صحت بخش پانی دستیاب ہو اور شہری ایک بنیادی ضرورت کیلئے کسی مشکل یا پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ صاف پانی کی فراہمی ایک صحت مند’ باوقار اور خوشحال پنجاب کی بنیاد بن سکتی ہے۔




