نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کے چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان نئی فوجی کشیدگی کے باعث پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 2.51 ڈالر یا 2.85 فیصد اضافے کے ساتھ 90.61 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 2.13 ڈالر یا 2.55 فیصد بڑھ کر 85.53 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر موجود دو لانچرز کو نشانہ بنایا،یہ جولائی کے اواخر کے بعد ایران کے خلاف امریکا کی پہلی معلوم کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔اس حملے کے ردعمل میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں موجود دو امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا۔مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم یہ صورت حال کتنے عرصے تک برقرار رہے گی، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان کے بقول یہ کشیدگی چند دن یا چند ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔تکنیکی تجزیے کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور WTI کی قیمت 85.80 سے 85.90 ڈالر فی بیرل کی مزاحمتی سطح عبور کر گئی تو قیمت ابتدائی طور پر گزشتہ ہفتے کی 87.69 ڈالر کی بلند ترین سطح اور اس کے بعد جولائی کی 93.50 ڈالر کی سطح تک جا سکتی ہے۔دوسری جانب جنگ بندی اور تنازع ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ثالث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریبا پانچواں حصہ تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکا ایران پر ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا امکان رکھتا ہے، جن کا مقصد ایران کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ کرنا ہے۔اگرچہ برینٹ اور WTI اگست میں معمولی کمی کے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے دونوں کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز میں تازہ کشیدگی نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہونے سے سپلائی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ کے خدشات کسی حد تک قابو میں رہے، تاہم ہفتے کے اختتام پر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے نمایاں کمرشل جہازوں کی تعداد کم ہو کر روزانہ پانچ رہ گئی، جو حملوں کے خدشے کے باعث شپنگ کمپنیوں کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے اندرونِ راستہ سفر کرنے والے ایک ٹینکر کو ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وینزویلا کے ساتھ حالیہ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والا تیل امریکا کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، امریکی تیل کے ہنگامی ذخیرے کی سطح تقریبا 44 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔




