پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی شعبہ میں تعاون اہم سنگ میل (اداریہ)

سعودی عرب کے لیے پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے اہم پیش رفت کا آغاز ہو گیا ہے جس سے پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو فروغ دینے کی کوششیں پاکستان کے زرعی شعبے اور معیشت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کے لیے کوششیں دونوں ممالک کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گی دونوں ممالک نے آئندہ دو سال میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کی زرعی وغذائی مصنوعات کی برآمدات 3ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے لائیوسٹاک’ ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں تعاون کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سعودی عرب نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد بتدریج دوگنا کرنے اور چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ 1947ء سے جاری پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان گہرے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ بھی کیا گیا۔ سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی وغذائی برآمدی شعبے کے درمیان موجود مضبوط باہمی ہم آہنگی کو اجاگر بھی کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس مشترکہ عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی زرعی وغذائی مصنوعات کی سعودی عرب کیلئے برآمدات کو 3ارب تک پہنچایا جائے جس کے لیے آئندہ دو سال کے دوران اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے نجی شعبے کے ساتھ مل کر چاول’ سرخ گوشت’ پھل اور ان کے کنسٹریٹس’ سبز چارہ اور پانی کے موثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبہ قرار دیا گیا۔ پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کی چاول کی درآمدی منڈی کو تقریباً 169,000 ٹن چاول فراہم کیے، جن کی مالیت تقریباً 163 ملین امریکی ڈالر تھی، سعودی وفد نے آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، سرخ گوشت کے شعبے میں دونوں فریقین نے پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30,000 ٹن سرخ گوشت کی فراہمی’ جس کی مالیت تقریباً 167 ملین امریکی ڈالر ہے۔ پھلوں اور ان کے کنسٹریٹس کے حوالے سے دونوں فریقین نے سعودی عرب میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید بڑھانے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ سعودی عرب نے سبز چارے کو تجارت میں وسعت اور طویل المدتی سپلائی پارٹنر شپ کے قیام کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔ پاکستان پھلوں’ سبزیوں’ چاول’ گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، تاہم عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے معیار’ پیکنگ’ کولڈ چین اور جدید زرعی طریقوں پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔ سعودی مارکیٹ تک رسائی میں بہتری سے پاکستانی کاشت کاروں اور برآمدکنندگان کو اپنی مصنوعات کی بہتر قیمت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے امکانات بھی پید اہونگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی منڈیوں میں پاکستانی زرعی اجناس کی رسائی بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرے۔ برآمدی معیار بہتر بنا کر’ جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر اور کاشتکاروں کو سہولتیں فراہم کر کے پاکستان زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام اور زرمبادلہ کے حصول میں اہم کردار ادا کریگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں