حکومت برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرے،فاروق یوسف شیخ

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر)کارپوریٹ پائیداری اور(CSDDD) Due Diligence Directiveکے دور کا بنیاد ی مسئلہ اور وقت کی ضرورت ہے جس پر عمل کر کے ہم اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے آج اس بارے میںٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکائونٹ ایبلٹی کی ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ آج کا موضوع انتہائی سنجیدہ اور توجہ طلب ہے لیکن اس وقت صنعتوں کو علاقائی مسابقت ، گرین مینو فیکچرنگ، کلائمیٹ چینج ، ری سائیکلنگ ، سرکلر اکانومی اور پائیدار صنعت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے ایسے سیمینار بہت پہلے ہونے چاہئیں تھے تاکہ برآمد کنندگان اور صنعتکارنئے عالمی کنونشنز کی کمپلائنسز کر کے برآمدات کو مزید بڑھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے لیکن 39ارب کے تجارتی خسارے کے ساتھ اس ہدف کو حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس کیلئے حکومت کو برآمد کنندگان کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر میں اس بارے میں تربیتی ورکشاپ کے انعقا د پر UNDP اور Trust for Democratic Education and Accountabilityکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اس قسم کے مزید سیمینار اور ورکشاپس منعقد کرانے کے لئے بھی تیار ہیں۔کارپوریٹ پائیداراور ٹرپل ڈی کے لیڈ کنسلٹنٹ اور اسلام آباد چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر توصیف زمان نے کہا کہ یورپین یونین کے ممالک کی درآمد 9 ار ب ڈالر ہے مگر جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے کے باوجود پاکستان کا اس میں حصہ صرف 0.3فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف چند لائنز تک محدود ہیں اس لیے ہمیں اپنی برآمدی مصنوعات میں مزید غیر روایتی اشیاء کو شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے پرتگال کا ذکر کیا جہاں تعمیرات کے شعبہ میں بڑی تعداد میں افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ ملک 5.25ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات درآمد کرتا ہے اگر پاکستان اِ س میں سے صرف ایک فیصد بھی حصہ لے لے تو اس کی برآمدات میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں