صفدرآباد(نامہ نگار)ماڈل بازار کی تعمیر کچھو ے اور خرگوش کی کہانی بن کر رہ گئی،مافیا جیت گیا شہری ہار گئے ،یہ کوئی نئی بات نہیںہے عرصہ دراز سے ہی ہم لوگ یعنی شہری اس طرح کے ڈرامے دیکھتے چلے آرہے ہیں،ماڈل بازار بنانے کی نوید جب شہریوں کو سنائی گئی تو افسران نے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے عوام کو سبز باغ دکھائے گئے کہ شہر دبئی بن جائے گا ،پیرس کی طرح چمکے گا ۔سنا تو یہی ہے کہ ماڈل بازار کیلئیسابقہ کارخانہ بازار (میلاد چوک تا یو بی ایل چوک)کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن شہر کی انجمن تاجراں کا جادو چل گیایہ ایک مفادات کا کھیل تھا جس میں مافیا کی جیت ہوئی اور شہری ٹھس ہو گئے۔کارخانہ بازار میں بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ ہونا تھی جسے بچانے کی خاطر مافیا نے ایسا جادو چلایا کہ لوگوں کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔ ایک سال سے اوپر ہو گیا ماڈل بازار بنتے ہوئے مگر ہنوز دلی دور است۔شہری رل گئے افسر اور تاجررہنما جیت گئے۔شہریوں کو آنسو بہانے سے کچھ نہیں ملے گا میرے یار پاکستانی مافیا تو کسی کو نہیں چھوڑتا اسے صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔دکانداروں کے چھپڑے ایک سال ہو گیا افسران کے حکم پر اتار دیئے گئے کہ نئے ڈیزائن کے لگانے ہیںمگر حالت یہ ہو گئی کہ بارش کا پانی دکانوں کے اندر چلا جاتا ہے جو نقصان کا باعث ہے۔آندھی آنے سے سارا گردو غبار دکانوں کے اندر سامان کا ستیا ناس ہو جاتا ہے،بجلی کی بار بار بندش نے کاروبا تباہ کر دیا رہی سہی کسر پیرا فورس ن نکال دی جو لوگون کے کاروبار کو تباہ و برباد کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی،پیرا فورس مریم نواز صاحبہ کی ایک نئی ایجاد ہے ۔جس نے کاروباری لوگوں کا سکون چھین لیا ہے ۔یا اللہ تو ہی اپنا کرم فرما عوام تو پس چکے ،شہریوں نے کہ ماڈل بازار کی تعمیر کب مکمل ہو گی ،،ڈیڈ لائن کا اعلان کیا جائے ،،عوام کو اندھیرے میںنہ رکھا جائے۔




