برآمد کنندگان کیساتھ رابطے افسران کو عملی مشکلات سمجھنے میں مدددیگا

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) وزارتِ تجارت کے زیرِ انتظام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ (PITAD)کے32ویں بیچ کے اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام (STP)میں شامل نئے تعینات سول سرونٹس کے وفد نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PHMA) ہاس فیصل آباد کا دورہ کیا، جس کا مقصد کاروباری ماحول کا عملی جائزہ لینا اور برآمد کنندگان و صنعتکارو ں کو درپیش مسائل کو سمجھنا تھا۔وفد کی قیادت سہیل احمد، ڈائریکٹر (ٹریننگ)، PITADنے کی۔اس موقع پر سہیل احمد نے کہا کہ دورے کا مقصد نئے تعینات افسران کو کاروباری اور برآمدی شعبے سے عملی آگاہی فراہم کرنا اور انہیں وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ حکومتی اداروں سے کاروباری برادری کی توقعات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ افسران مستقبل میں *کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ* میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اس لیے حکومتی اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان پیشہ ورانہ، تعمیری اور نتیجہ خیز روابط کا فروغ ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمد کنندگان اور صنعتکاروں کے ساتھ براہِ راست رابطہ افسران کو ملکی برآمدی شعبے کو درپیش عملی مشکلات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیگا۔احمد افضل اعوان، سینئر وائس چیئرمین PHMAنارتھ زون نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش اہم مسائل پر روشنی ڈالی، جن میں بالخصوص کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی توانائی نرخ، ٹیکس پالیسی اور شرح سود کی ضرورت ہے۔احمد افضل اعوان نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمد کنندگان کو بنگلہ دیش، ویتنام، چین اور بھارت جیسے اہم علاقائی حریفوں کی جانب سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے Reciprocal Tariffs کے تناظر میں پاکستان کی برآمدی مسابقت برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں