کاروباری آسانیوں کا فقدان،ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر چلی گئی ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان کے وسیع تر مفاد کیلئے متحرک ، فعال اور نتیجہ خیز معاشی پالیسیوں کی تشکیل پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیر تربیت افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ اسلام آباد کے زیر تربیت 32ویں سپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ فیصل آباد اس ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے جبکہ فیصل آباد چیمبر کو بھی تیسرا بڑا اور اہم ترین چیمبر کا اعزاز حاصل ہے۔ فیصل آباد کی Dynamic Positionکے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کی ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 57فیصد ہے پہلے یہ شہر صرف ٹیکسٹائل کی وجہ سے پہنچانا جاتا تھا مگر اب یہاں ہر قسم کی صنعتیں قائم ہیں جن میں فارما، کنفکشنری، نوڈلز، ڈیری، ٹائلز اور گاڑیوں کی اسمبلنگ وغیرہ بھی شامل ہیں جس سے اس شہر کی معاشی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے ممبران کی مجموعی تعداد 22ہزار ہے جو 128مختلف ٹریڈ ز اور سیکٹرز سے منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کا بنیادی مقصد بزنس کمیونٹی کے مسائل کو حل کرانا ہے۔ اس مقصد کیلئے ہم اداروں کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہتے ہیں تاکہ پالیسی سازی اور خاص طور پر بجٹ کی تیاری کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کی مشترکہ رائے کے مطابق ایسی سفارشات کی جائیں۔ جو حکومت اور بزنس کمیونٹی دونوں کیلئے یکساں طور پر قابل قبول ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اِن سفارشات پر سو فیصد عمل کیا جائے تو ہم موجودہ معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں کیونکہ یہ سفارشات حقیقی سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی وجہ سے ٹیکسٹائل ہماری اہم ترین برآمد ہے مگر ہم نے کپاس کے علاقوں میں گنے کی کاشت کر کے ملک کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب ہمیں مقامی ضرورتوں کیلئے کپاس درآمد کرنا پڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کے یہ عمل کرنے والوں نے دراصل ملکی معیشت کے ساتھ ظلم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وافر چینی کے نام پر سستی چینی برآمد کی جاتی ہے اور پھر کمی کی آڑ میں مہنگی چینی درآمد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صرف اس لیے اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ حقیقی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی جاتی جو انہیں حقیقی زمینی حقائق سے آگاہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی ملکوں میں بجلی 7سینٹ پر دستیاب ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت 11.7 سینٹ ہے اس طرح گیس بھی مہنگے نرخوں پر دی جا رہی ہے ۔ کاروباری آسانیوں کا بھی فقدان ہے جس کی وجہ سے بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو چھوڑ کے چلی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں برآمدات کیلئے کمپلائنسز ہونی چاہئیں مگر 32قسم کے محکمے تاجروں اور صنعتکاروں کو پریشان کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں