بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پابندی کرنا ہو گی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر )پاکستان مسلم لیگ نون سٹی کے سابق جنرل سیکرٹری شاہد محمود بیگ اور ممبر سنٹرل کونسل سید محمد علی بخاری نے کہا ہے کہ دی ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو نافذ العمل قرار دینا بھارت کیلئے ایک بڑا قانونی دھچکا اور پاکستان کے لئے اہم قانونی فتح ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مثر بنانے کی کوشش کو عالمی قانونی فورم پر تقویت نہیں مل سکی۔ اپنے ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا انتظام نہیں جسے ایک فریق اپنی مرضی سے ختم یا غیر مثر کر سکے۔ پانی کی تقسیم سے متعلق بین الا قوامی معاہدے کی حیثیت کو یکطرفہ سیاسی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی معاہداتی نظام کی ساکھ بھی اسی اصول کی پاسداری سے وابستہ ہے۔ دونوں لیگی رہنماں نے کہا کہ کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے ثالثی عدالت کی اہم آبزرویشنز پاکستان کے موقف کو قانونی تقویت فراہم کرتی ہیں۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور اس کی شرائط کی پابندی کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش مستقبل کے آبی تنازعات میں ایک انتہائی خطر ناک مثال قائم کر سکتی تھی۔ پاکستان نے اس معاملے پر اپنے قانونی موقف کو عالمی سطح پر مثر انداز میں پیش کیا ہے اور موجودہ فیصلہ اس موقف کے لئے اہم تقویت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں