پاکستان اور کرغزستان میں باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز (اداریہ)

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان 17معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے ان معاہدوں سے تجارت’ سرمایہ کاری’ توانائی’ تعلیم’ صحت’ سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں، پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاشی روابط کا فروغ خطے میں اپنی تجارتی اور اقتصادی اہمیت بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم’ صحت’ تجارت’ ماحولیاتی تبدیلی’ سائنس وٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے 17 معاہدوں’ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جبکہ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم 20کروڑ ڈالر تک لے جانے پر اتفاق اور دہشت گردی کیخلاف تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کرغزستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے، دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ خوش آئند اور اہم پیشرفت ہے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھائینگے۔ کرغزستان کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ادویہ سازی’ زراعت’ توانائی’ ہلکی مشینری’ سیاحت’ ڈیجیٹل معیشت’ ورچوئل اثاثوں اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے تیار ہیں دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ افغانستان دوسرے ممالک کیلئے خطرہ نہ بنے۔ پاکستان اور کرغزستان نے تعلیم’ صحت’ تجارت’ ماحولیاتی تبدیلی’ سائنس وٹیکنالوجی’ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے اور اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کیلئے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات پر اتفاق رائے کیا گیا۔ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے دور کا آغاز ہے۔ کاسا 1000 منصوبے کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔ دہشتگردی’ انتہاپسندی اور دیگر عصری خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینگے، جس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا، سفری سہولیات بہتر ہونگی اور علاقائی سطح پر رابطے کیلئے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 4ملکی راہداری معاہدے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور ٹرانسپورٹ’ کسٹمز اور انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانے پر اتفاق بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون ہماری شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ کاسا1000 منصوبے کی بروقت تکمیل کا اعادہ کرتے ہیں اور بجلی’ پن بجلی’ متبادل توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق عملی تعاون کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم’ صحت’ سائنس وٹیکنالوجی’ صحت’ ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔ دونوں ممالک مل کر دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف کام کرینگے۔ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر علاقائی اثرات بھی ہیں۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ ان معاہدوں پر عملی اور تیز رفتار انداز میں عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ کاروباری برادری اور عوام بھی ان کے اثرات سے مستفید ہو سکیں۔ تجارتی روابط’ فضائی وزمینی رابطوں میں بہتری اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھا کر دونوں ممالک باہمی تجارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان 17 معاہدے باہمی تعاون کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاہدوں کو محض دستخطوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر مقررہ مدت میں عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگر دونوں ممالک بھرپور عزم کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعاون کو آگے بڑھاتے ہیں تو یہ شراکت داری پاکستان اور کرغزستان ہی نہیں بلکہ پورے وسطی ایشیائی خطے میں ترقی’ خوشحالی اور مضبوط روابط کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں