سانچہ پمز ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس نے ہر حساس دل کو رنجیدہ کر دیا ہے۔ ایسے واقعات میں صرف افسوس اور مذمت کافی نہیں بلکہ اصل حقائق سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنا ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں تاکہ غفلت کے مرتکب افراد سزا سے نہ بچ سکیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سانحہ پمز میں 14نومولود بچوں کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دونوں ایوانوں میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک بھی منظور کر لی گئی۔ قبل ازیں سانحہ گل پلازہ سمیت مختلف واقعات ہوئے لیکن وہ کمیٹیوں میں ابھی تک انکوائری کی سطح پر ہی سرگرداں ہیں، کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے، بچوں کی موت کے واقعہ پر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ وزیراعظم کی جانب سے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام اور 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ طلب کرنا فوری ردعمل کے طور پر مناسب ہے، مگر اصل مسئلہ کمیٹی بنانا نہیں، کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا ہے۔ ہمارے ہاں سانحات کے بعد انکوائریاں بنتی ہیں، رپورٹیں تیار ہوتی ہیں، ذمہ داروں کے تعین کی بات ہوتی ہے، چند اہلکار معطل ہوتے ہیں اور پھر وقت کے ساتھ فائلیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں۔ اگر پمز کا معاملہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوا تو یہ چودہ اموات محض ایک اور سرکاری فہرست کا حصہ بن جائیں گی۔ اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو بھی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رسمی تعزیت سے آگے بڑھنا ہو گا۔ جن والدین نے اپنے بچوں کو ہسپتال کے حوالے کیا، انہیں مکمل معلومات’ شفاف تحقیق’ قانونی معاونت اور مناسب ریاستی مدد ملنی چاہیے۔ کوئی معاوضہ ان بچوں کو واپس نہیں دلا سکتا، مگر ریاستی ذمہ داری کا اظہار کر سکتا ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ خاندانوں کو تحقیق کے نتائج سے باخبر رکھا جائے اور انہیں یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ ان کا دکھ چند دن کی خبروں کے بعد قومی حافظے سے غائب ہو گیا۔ ان بچوں نے دنیا میں قدم رکھتے ہی کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا ان کے والدین نے صرف اتنا چاہا کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں، اب ریاست کو ثابت کرنا ہے کہ یہ اعتماد غلط نہیں تھا۔ پمز کی نرسری کے شعلوں نے صرف چودہ چراغ نہیں بجھائے، انہوں نے ہمارے انتظامی نظام کی کمزوریاں بھی روشن کر دی ہیں۔ اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم ان کمزوریوں کو پردے میں چھپاتے ہیں یا انہی شعلوں کی روشنی میں پورا نظام بدلنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا قیام ایک مناسب قدم ہو گا جو واقعے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے اور اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے، کمیٹی یہ بھی دیکھے کہ واقعے کے دوران کہاں انتظامی یا طبی غفلت ہوئی، ذمہ دار کون ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔ اگر کسی فرد یا ادارے کی کوتاہی ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ پمز جیسے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایسے افسوسناک واقعات کو کسی صورت گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ذمہ داروں کو سزا دینے کے ساتھ ہسپتالوں میں انتظامی نگرانی’ طبی سہولیات اور ہنگامی نظام کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات شفاف اور نتیجہ خیز ہوں تاکہ متاثر خاندانوں کو انصاف ملے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔




