اثبات سے معاملات سلجھائے جاتے ہیں۔ جذبات سے الجھاو اور الجھاو کے نتیجے میں شر اور شر سے افراتفری اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ صورتحال کو کنٹرول کرنا ایک اور عمل ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہر چیز کو بے وجہ رد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ دانائی اور حکمت ہی انسان کے پاس موثر ہتھیار ہے اور جنگیں ہمیشہ دانائی اور حکمت سے لڑی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم غزوہ بدر میں سب سے پہلے جن مجاہدین کو لڑائی کے لئے مشرکین مکہ کے سامنے بھیجتے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریبی رشتے دار تھے۔ غزوہ احد میں ایک درے پر خصوصی طور پر کچھ جوانوں کو متعین کیا گیا تھا اور بعد ازاں ان کے درے کو چھوڑنے کے نتیجے میں مسلمانوں کو نقصان ہوا تھا۔ غزوہ خندق نام سے ہی خندق کے لفظ کا پس منظر اور پیش منظر سمجھ آجاتا ہے۔ خندق کھودنے کی بھی ایک حکمت تھی۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا معاہدہ کرکے کافروں کی شرائط کو تسلیم کرلینا۔ تاہم علم وحکمت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہے۔ وقت نے ثابت کیا بعد کی مہمات اور پھر فتح مکہ کے دوران سارے معاملات خالی از حکمت نہیں تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک بیانیہ تخلیق ہوچکا ہے کہ جنگ دماغ سے لڑی جاتی ہے اور دماغ ہی حکمت کی فیکٹری ہے۔ تدبیر ایک دوسری چیز ہے اور تدبیر کا بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ حکمت سے ہی تعلق ہے۔ تدبیر سے چیزوں کی ہیئت بدلی جا سکتی ہے۔ تدبیر سے ہی مسائل کو وسائل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور تدبیر سے ہی شکست کو فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ویسے بھی متذکرہ بالا صورتحال میں دشمن سکتے میں چلا جاتا ہے اور آپ کے پاس مزید کھل کھلا کر کھیلنے کا موقع ہوتا ہے۔ موقع ضائع کرنے والے تو پھر پیچھے بلکہ بہت ہی پیچھے رہ جاتے ہیں۔6 ستمبر 1965کا دن ہماری تاریخ کا ایک اہم ترین دن۔ بلکہ ایک اہم موڑ۔ ہمارا امتحان اور دشمن کی ہلڑبازی، ہٹ دھرمی، بدمعاشی اور جارحیت کا مظاہرہ۔ 14 اگست 1947کو ہمارا پیارا ملک تخلیق ہوتا ہے اور پھر لارڈ مائونٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کی ملی بھگت۔ ہمارے اپنے حصص سے بھی انکار کردیا جاتا ہے اور ہمارا وجود ہی خطرے میں۔ دشمن تاک میں ہے اور ہم اور ہماری قیادت کا کڑا امتحان۔ جیسے تیسے آگے کا سفر شروع ہوتا ہے اور چیزیں آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور یوں ہندوستان کے پیٹ میں مروڑ۔ ایسے معاملات نے تو ہمارے دشمن ملک کی سوچ کو ”مروڑ” کر رکھ دیا اور وہ گھٹیا پن کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے ایک رات جب ہم سب سوئے ہوئے تھے چڑھ دوڑا۔ وہ واقعی ہمیں سوئے ہوئے ہی سمجھ رہا تھا۔ حالانکہ ہمارا سونا اور بیدار ہونا برابر ہوتا ہے۔ (تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں۔۔ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں) کیونکہ جس ملک کے پاس ایک مضبوط اور ہوشمند فوج ہوتی ہے اس ملک کی عوام یقینا آرام سے سوتی ہے۔ انڈیا کا اچانک حملہ آور ہونا۔ ہمارے جوانوں کا منہ توڑ جواب دینا۔ بلاشبہ جنگ تو جنگ ہوتی ہے اور یہ سب کے لئے ہوتی ہے۔ نقصان تو ہمارا بھی ہوا ہوگا لیکن مخالف ملک کو بھی ایک خاص پیغام چلا گیا کہ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں جتنے کہ وہ سمجھتا ہے اور اس نے معاملات کو سمجھنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے اور جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت ہی ہوتا ہے۔ پھر جنگ بندی اور اس کے بعد مذاکرات وغیرہ۔ مذاکرات کی ٹیبل پر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ طاقت کا اظہار جنگوں میں ہوتا ہے اور جنگ ہم نے جیت لی تھی کیونکہ لاہور کے جم خانہ میں آکر کھانا کھانے والوں کے خواب چکنا چور ہوچکے تھے اور ہندوستانی قیادت شکست کی خفتگی اور ندامت کی وجہ سے ویسے ہی چور چور ہوگئی۔ الحمدللہ پاکستان کی افواج اور عوام سرخرو۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی گئی اور پھر آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔دشمنی تو پھر دشمنی ہوتی ہے اور دشمنی میں کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہاں دشمن کی ذہنیت کے بارے میں جاننا بہت ہی ضروری ہوتا ہے اور اس کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھنا پڑتی ہے۔ 6ستمبر کا دن یہی بات ہم پر واضح کرتا ہے اب ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے آپ کو تیار رکھیں کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو جنگ کے لئے تیار رہیں۔ کوئی شک نہیں کہ 1971میں ہمارا ملک دولخت ہوا لیکن اکثر شر سے خیر نکلتا ہے ہم نے 1965کا سیکھا ہوا جو سبق تھا ہم نے اس کا اعادہ کیا۔ ہم نے اپنی افواج کو ازسر نو منظم کیا اور پھر سونے پر سہاگہ کہ ہم نے ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا اور ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر 28مئی 1998 کو دھماکے کرکے اپنے دشمن ملک کو واضح پیغام دے دیا کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔ پیغام بڑا ہی واضح تھا لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے کہاں مانتے ہیں اور پھر 2025اور ہندوستان کی ایک اور بیمار ذہن کی کارروائی۔ رات کے اندھیرے میں بہاولپور اور مریدکے میں شہریوں پر اندھا دھند بمباری۔ انسانی جانوں کا کافی نقصان لیکن (شہادت ہے مطلوب مقصود مومن) اور (دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو۔۔۔ عجب چیز ہے لذت آشنائی)۔ لذت آشنائی والے پھر پیچھے نہیں دیکھتے وہ تو اس وقت تک فضائوں میں محو پرواز ہوتے ہیں جب تک مودی کے منہ سے “توبہ توبہ”کے الفاظ نہیں نکلتے۔ ہمارے شاہین اڑتے ہیں اور ان کے ایئر بیس تباہ کردیئے جاتے ہیں اور ان کے جہاز اڑنے سے پہلے فریز کر دیئے جاتے ہیں۔ کرامت اور وہ بھی ٹیکنالوجی کی ۔ معرکہ حق کی لازوال داستان۔۔ پاکستان پاکستان۔یہ ہے جنگ کے لئے تیار رہنے کا معاملہ۔ یہ ہے افواج کا جاگنا اور عوام کا آرام اور سکھ سے سونا۔ یہ ہے دشمن کو زبردست پیغام دینا اور دشمن کا سکتے میں آجانا اور دشمن ملک کا کسی کو دنیا بھر میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہ جانا۔ وزیر اعظم ہندوستان کا لال سرخ منہ۔ نتیجہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ جلدبازی اور ہٹ دھرمی کے یہی نقصانات ہیں اور یہ ایک کیس سٹڈی ہے ان سب ممالک کے لئے جو وسعت پسندی کے جنون کے مرض میں مبتلا ہیں ان کو یہ بات بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سارے خواب کبھی بھی پورے نہیں ہوتے ہیں مزید یہ کہ دشمن کو کبھی بھی کمزور نہ سمجھا جائے۔ قارئین کرام ہماری تاریخ کا اتار چڑھائو دوسری قوموں کی طرح ہی ہوگا مان لیا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے زیرو بجٹ سے شروع کیا اور پھر اپنوں اور پرائے لوگوں کی سازشوں کا بھی شکار رہے اس کے باوجود ہماری تاریخ 6ستمبر 1965 سے مئی 2025 تک کے سفر کی ایک وکھری کہانی ہے اور اب ہم نے اس کہانی کو مزید آگے بڑھانا ہے اس کے لئے افواج پاکستان اور پاکستان کی عوام کا شانہ بشانہ کھڑے ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آئیے اس ضرورت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اس ضرورت کو پورا کرنے کا عزم کرتے ہیں۔




