میں دن 11بجے الخدمت کے دفتر سے نکل کھڑا ہوا اور ڈرائیور نے گاڑی سیالکوٹ لاہور موٹر وے پر ڈال دی – میرے ذمہ پارہ 13 کی تلاوت تھی – میں اس ذمہ داری سے فارغ ہوا اور اطمینان بھرے سکوت میں کتاب ہدایت کو پڑھنے لگا جو میرے سامنے اللہ کی آیات بن کر کھلی پڑی تھی ۔ تپش والی گرمی مون سون کی حبس کے ساتھ مل کر ستمبر کو ستمگر بنارہی تھی – میں نے باہر دیکھا تو آسمان کانپتا ہوا محیط کہیں کہیں بادلوں کے سائے میں آرہا تھا۔ آہستہ آہستہ بادلوں نے مد مقابل سے مقابلہ کے لیے اپنی قوت میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ میں گرمی اور بادلوں کی اس معرکہ آرائی کا مشاہدہ کرتے کرتے جب جنازہ کے مقام ڈیفنس لاہور فیز5 کی مسجد پہنچا تو اس پنجہ آزمائی کی علامات ادھر بھی نظر آنے لگیں۔ بارھویں کامن کے ساتھی ایک ایک کر کے آنا شروع ہوئے – مشام جان تو پہلے قطرے خالد مسعود چوہدری کے ورود مسعود کے ساتھ ہی بھیگ گیا تھا – جلد ہی ان عارفوں نے اپنا حلقہ قائم کرلیا جن میں سید جاوید نثار امام بن کر حسب معمول ادھر ادھر منڈلاتا رہا اور ہماری منڈلی بڑھتی رہی۔ افسوس میں اپنی بے خبری کے ہاتھوں اپنے عارف سے محروم رہا گو کہ وہ الٰہی تجلیات سے مامور ہے۔ امڈتے ہوئے بادل بڑے فائٹر نکلے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔ اللہ اکبر کی پکار پر اندر مسجد کی خالی جگہیں نمازیوں سے پر ہونے لگیں تو باہر کا خالی میدان بارش نے مار لیا۔ جب جبیں ہائے ناز خدائے بے نیاز کے حضور سجدہ ریز ہو کر ٹھنڈی ہو چکیں تو لگا کہ نمازی نواز دئیے گئے ہیں۔ تیز بارش نماز جنازہ کی صفوں کی آراستگی میں رکاوٹ بننے لگی تو میرا دھیان اپنے ممدوح اور ہمدم دیرینہ عرفان جہانگیر وٹو کی زندگی کی طرف پھر گیا جس کی ابدی سفر پر روانگی کی خبر جمعہ کی شام کو دن تمام ہونے سے پہلے مل گئی تھی اور میں اسے الوداع کہنے اب یہاں موجود تھا۔ مجھے آج کا دن اور یہ لمحہ عرفان جہانگیر وٹو کی زندگی کا خلاصہ لگا کہ وہ ان بادلوں سے بھی بڑا فائٹر تھا اور یہ موسم اس پر زندگی بھر طاری رہا اور اپنے اسی وصف کی بدولت وہ اپنے ہر مد مقابل پر بھاری رہا – کہتے ہیں کہ اچھی روحوں کی روانگی کے وقت فضا خوشگوار ، ماحول ٹھنڈا اور ہوا خنک ہو جاتی ہے۔ جب بارش کی تسلی ہوگئی کہ اس نے ساری تپش کو چوس کر مطلوبہ مقدار میں رحمت کی ٹھنڈکیں بکھیر دی ہیں تو دکھی دلوں کو مغفرت کی دعائوں اور جنت کی مناجاتوں کے لیے راستہ دے دیا۔ جس کے بعد اسی تسلسل میں بارش ایک دفعہ پھر یوں برسنے لگی جیسے دعائوں کی قبولیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہو۔ ایسے میں سنڈیکٹ 6کے تین مکین یگانگت کا مکان بن کر تادیر عرفان وٹو کو یاد کرتے ہیں، پرانی یادوں کے موتیوں کو حال کی لڑی میں پرو کر رولتے رہے اور مسجد میں بیٹھ کر انتظار کھینچتے رہے ۔ جب میں نے ساجد حسین اور خالد مسعود چوہدری سے آئندہ ملاقات کے لئے عزم بھرا مصافحہ کیا تو ہم ایک دوسرے کے حالات حاضرہ بارے بہت کچھ کشید کر چکے تھے جو نشید اذان بن کر زندگی کی میزان کو متوازن اور روشن کرتا رہے گا۔ واپسی کی تنہائی رگ وپے میں اترنے سے پہلے میں نے یادوں کے دریچے کھول لیے ، لاء کالج کے ساتھی اور ماضی کے سول جج سے دوبارہ یاد بارھویں کامن کی سی ٹی پی میں استوار ہوئی، ہمارے گروپ بھی الگ الگ تھے اور سنڈیکیٹ بھی جدا جدا مگر عرصہ ملازمت میں عرفا ن جہانگیر وٹو ان محدو ے چند بیج میٹ میں سے تھا جن کے ساتھ رابطے زیادہ استوار رہے اور ایک دوسرے کا تلخابہ حیات چکھنے کا بہت موقع ملا ، زندگی کو بھر پور جینا، اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لیے احساس کو عمل کا تحرک دیتے رہنا ، دیہی معاشرت کے بوجھ تلے تھانہ’ کچہری سے واسطہ اور کچھ غلط کر گزرنے والوں پر گرفت وقت گزاری کے دلچسپ موضوع اور مقاصد تھے جنہوں نے عرصہ دراز تک ہمیں جوڑے رکھا ، زندگی کو کہولت میں بھی پرسہولت رکھا اور داستانیں بھی سننے کو ملتی رہیں۔ عرفان جہانگیر وٹو قائدے قانون کوموم کی ناک بنانے والوں پر پتھر کی طرح برستا، اس کے ملائم لہجے اور ملاپ بھرے برتائو میں بھی گھن گرج کی گرفت تھی کہ پیچھے ہٹنا اسے آتا نہیں تھا اور آگے بڑھنے میں ہر رکاوٹ سے ٹکرا جانا اس کی سرشت میں تھا ، ایسے معاملات میں وہ پلک جھپکتے میں اپنی خدمات پیش کردیتا اوراس کی زنبیل میں موجود علم، قانون، ضابطے، منطق اور دلیل کے سارے ہتھیار ہمہ وقت دوسروں کو دستیاب رہتے ، ممولے کو شہباز سے لڑانے والوں کا وہ بہترین استاد تھا اور برے کو گھر چھوڑ کر آئے بغیر اسے چین نہ آتا تھا ۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ ”جنیں عرفان وٹو نال متھا لایا اہدی ماں نے وی وین ہی پائے ”۔ وہ باہر سے جتنا مضطرب تھا میں نے اسے اندر سے اتنا ہی پرسکون پایا ، توانائی سے بھر پور اس کی متحرک شخصیت نے ناتوانی میں بھی اپنا اعتماد بحال رکھا۔وہ بیمار ہوا تو سب کو پریشانی لگی مگر اس نے نہ بیماری کو دل پر لیا نہ حوصلہ ہارا ، الٹا اس کے تیماردار اس سے طاقت لے کر اٹھتے ، علاج کے معمول میں ڈھل کر وہ معمولات زندگی کو بحال رکھنے کی تگ ودو میں تھا کہ بلاوا آگیا ۔ موت ایک مہربان دوست ہے وہ خود نہیں آتی نہ اسے آنے سے کوئی روک سکتا ہے ۔ وہ تو اللہ کا حکم بجا لاتی ہے ، زندگی کے دھاگے پر یقین کی گانٹھ مضبوط ہو تو وہ راحت بن جاتی ہے ۔ راحتیں سمیٹنے میں زندگی بیتا دینے والوں کو خبر ہو اصل راحت آخرت کی راحت ہے ۔ ہر لڑائی جیتنے والا عرفان جہانگیر وٹو بتا گیا ہے کہ زندگی کا اصل معرکہ موت سر کرتی ہے، جب وہ بندے کو رب سے ملا دے گی تو خود بھی ہار جائے گی ، ان حروف سے دوستی کا حق تو شاید ادا نہ ہو پایا ہو مگر خدائے رحمان سے التجا ہے کہ وہ ہمارے پیارے بیج میٹ عرفان جہانگیر وٹو کے حق میں ہماری دعائے مغفرت قبول فرمالے، آمین۔




