ملک میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے دو گھنٹے سے زائد بجلی بند نہ رکھنے کی ہدایت اور بڑھتی لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ حکومت ابھی اس صورتحال کو معمول کے مطابق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ گرمی اور مہنگی بجلی کے باوجود طویل لوڈشیڈنگ عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں، اس لیے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی علاقے میں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، ان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں ملک میں بجلی کی لوڈمینجمنٹ پر جائزہ لیا گیا۔ جس کے دوران خطے کی حالیہ صورتحال میں آر ایل این جی کی فراہمی سے متعلق بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات سے آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی، طلب ورسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبوراً لوڈمینجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ کسی بھی علاقے میں 2گھنٹے سے زیادہ کی بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہو۔ عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ڈسکوز کی سطح پر صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے کمپنیاں قائم کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے’ زراعت میں جدت لانے’ لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات بھی کیے جائیں۔ زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے۔ فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے’ زراعت میں جدت لانے’ لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کے زرعی شعبے سے برآمدات 5.18 ارب رہیں۔ چاول’ فشریز’ حلال گوشت’ آلو’ تمباکو’ آم اور مکئی پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات رہیں۔ نیشنل ایگریکلچرل اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو بھی فعال کیا جائے۔ ملک میں غیر ضروری اور طویل بندش سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوتے ہیں بلکہ صنعتی’ تجارتی اور زرعی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خصوصاً کاروباری اور صنعتی مراکز میں بجلی کی بار بار بندش سے پیداواری عمل رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی پیداوار’ ترسیل اور تقسیم کے نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کے خاتمے کے لیے بھی موثر اقدامات کرے تاکہ صارفین کو بلاجواز لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعظم کی جانب سے دو گھنٹے سے زائد بجلی بند نہ رکھنے کی ہدایت خوش آئند ہے۔ تاہم اصل امتحان اس ہدایت پر مؤثر اور بلاامتیاز عملدرآمد کا ہے۔ متعلقہ بجلی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کریں اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری ختم کریں، عوام کو محض اعلانات نہیں بلکہ عملی ریلیف درکار ہے۔ حکومت بجلی کی فراہمی میں بہتر لا کر اعتماد بحال کرے اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کو یقینی بنائے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری اور گھریلو صارفین کی قیمتی الیکٹرونکس کی اشیاء کے جل جانے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلائی جائے، کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ سے خام مال کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لیبر کے اخراجات الگ سے برداشت کرنا پڑتے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ عوام دوست پالیسیاں بنائے تاکہ ملک کے چھوٹے تاجروں اور گھریلو صارفین کو بھی ریلیف مل سکے۔




