فیصل آباد( سٹاف رپورٹر)جنوبی کوریا سے واپس آنیوالی ہنر مند افرادی قوت کو صنعتی علاقوں میں جگہ ، آسان اور سستے قرضے دے کر پاکستان میں بھی صنعتی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات چیئرمین پاکستان بزنس ایسوسی ایشن سائوتھ کوریا مدثر علی چیمہ نے وفد کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ 25ہزار پاکستانی کوریا میںمقیم ہیں ۔ سب سے پہلے نمبر پر صنعتی ورکرز ، دوسرے نمبر پر طلبہ اور تیسر ے نمبر پر بزنس کمیونٹی آتی ہے۔ انہوں نے کوریا کے نظام بارے بتایا کہ لیبر کو 3سال کیلئے ویزا ملتا ہے جس کے بعد انہیں دوبارہ 3سال کا ویزا لینے کیلئے واپس آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہنر مند افرادی قوت کو ضروری سہولتیں دے کر پاکستان میں جدید صنعتوں کا جال پھیلا یا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی ایسوسی ایشن پاکستانی برآمدات بڑھانے کیلئے ہر سال ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ کانفرنس کرتی ہے جبکہ فیصل آباد کے ہرسیکٹر کے بارے میں الگ الگ کانفرنسیں منعقد کر کے ان کی کوریا کے متعلقہ صنعتکاروں سے بی ٹوبی میٹنگزبھی کرائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ویزے کے عمل کو جلد مکمل کرانے کا بھی یقین دلایا اور کہا کہ اُن کی ایسوسی ایشن رفاعی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے بھر پور تعاون کریں گے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر کے صدر فاروق یوسف شیخ نے بتایا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 57فیصد کا حصہ ڈالنے کے علاوہ کپڑے کی مقامی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فیصل آباد صرف ٹیکسٹائل کی وجہ سے پہنچانا جاتا تھا مگر اب یہاں فارماسوٹیکل، آٹو ، ڈیری اور کنفکشنری سمیت کئی دوسرے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد میں قائم جدید صنعتی علاقوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہاں ساڑھے پانچ سو سے زائد چینی صنعتیں کام کر رہی ہیں۔ فیصل آباد چیمبر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 22ہزار تاجر اور صنعتکار اس کے ممبر ہیں جبکہ اب یہ ادارہ صرف بزنس کمیونٹی کی بجائے اس شہر کی ایک کروڑآبادی کی نمائندگی کر رہا ہے۔




