وطن عزیز میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں جبکہ نئے صوبوں کا معاملہ باہمی افہام وتفہیم سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر مل بیٹھ کر وطن کی بہتری کی خاطر فیصلے کرنا ہونگے تاکہ ملک درست سمت میں چلتا رہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا جو کہ ایک اچھا فیصلہ ہے جمہوری دور میں ملک کی بہتری کی خاطر بڑے بڑے فیصلے پارلیمنٹ میں ہی ہوتے ہیں جو کہ آئینی اور قانونی حق ہے اسی حوالے سے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اﷲ خاں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں ملوث عناصر بھی لانگ مارچ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جن لوگوں کے ارادے پُرامن نہ ہوں، انہیں روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے۔ جتنی خواہش جماعت اسلامی کی پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے کی ہے۔ اتنی ہی خواہش وزیراعظم کی بھی ہے، حکومت سنجیدگی سے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی خود کو مشکل میں نہ ڈالے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی تلخی میں کافی کمی آئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات بہتر انداز میں حل کیے جائیں گے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے مؤقف پر بات چیت جاری ہے۔ (ن) لیگ پارلیمنٹ میں بحث میں حصہ لے گی اور وزیراعظم بھی اس پر بات کرینگے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو اس سنجیدہ مسئلہ کو فراخدلی کے ساتھ طے کرنا ہو گا اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہو گا کیونکہ اس وقت پڑوسی ملک بھارت جو کہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے درپے ہے اور وہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتا اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کی بہتری کی خاطر سیاسی رسہ کشی اور احتجاجی جلسے جلوسوں سے اجتناب کرنا ہو گا اور ملک کے حق میں بہتر فیصلے کرنے ہونگے اور نئے صوبوں کے قیام کے سلسلے میں ٹیبل ٹاک کو فروغ دینا ہو گا صوبے بننے یا نہ بننے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ ریفرنڈم کا فیصلہ بھی ہو تو اس کی اجازت پارلیمنٹ ہی دے گی۔ اکنامک فورم یا سیمینار میں صوبوں کی بحث نتیجہ خیز نہیں رہے گی۔ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو کوئی نہیں روک سکتا، عوام کے چاہنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں ہی ہوگا۔ صوبوں پر بحث کا معاملہ جب پارلیمنٹ میں آئے گا تو (ن) لیگ اپنا پالیسی بیان دے گی (ن) لیگ پارٹی کی ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل کے کارکنوں کی سوچ پر غور کریگی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے، پاکستان کا قیمتیں بڑھنے میں کوئی قصور نہیں، جنگ روکنے کی کوشش پاکستان نے سب سے زیادہ کی ہے۔ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخاب کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، غیر متحرک عہدیداروں اور خالی نشستوں کو آئندہ 30 دن میں پُر کیا جائے گا۔ بڑے شہروں میں بلدیاتی ادارے عوام کے قریب ہونے چاہئیں۔ اگر اختیارات کم ہیں تو انہیں مزید اختیارات دیئے جا سکتے ہیں، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اﷲ خاں نے جو باتیں کیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ہر معاملے میں عوامی رائے کو اہمیت دے رہی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے اور نئے صوبوں کا معاملہ اور دیگر معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔




