لاہور (بیوروچیف) پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق کے بعد پنشن ‘گریجوایٹی ‘لیوانکیشمنٹ کے سابق نظام کی بحالی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں, سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں حزب اقتدار کے ممبران اسمبلی بھی اپنی حکومت کو ملازمین کو ریلیف دینیکا مطالبہ وزیر اعلی پنجاب سے کر رہے ہیں اسمبلی نے لا تعداد سوالات سرکاری ملازمین کی پنشن ‘گریجوایٹی اور لیوانکیشمنٹ کی بحالی پر کیے جس پر بتایا گیا کہ سرکاری خزانہ پر بوجھ کی وجہ سے یہ اصلاحات ہوئیں سپیکر کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو وزیر اعلی ریلیف دینا چاہتی ہیں پنجاب میں 10لاکھ کے قریب پنشنرز ہیں اگر حکومت پارلیمنٹ کے ممبران کو مراعات دیتی جارہی ہے تو سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق دینا ریاست کا فرض ہے سرکاری ملازمین کے حقوق کی بات کی جائے ۔تو ان کے حقوق کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔ صوبائی ملازمین اور وفاق کے ملازمین میں قوانین اور حقوق میں واضع فرق ہے حالانکہ ایک ہی ریاست کے شہریوں کے ساتھ ایسا ہونا نہیں چاہیے چھوٹے ملازمین نے ہمیشہ مشکلات برادشت کی ہیں اور کرتے ہیں جبکہ سکیل 17تا سکیل 22تک کے ملازمین کے مسائل قدرے کم ہیں چھوٹے ملازمین کی پروموشن کا عمل بھی سست روی کا شکار رہتا ہے جس سکیل میں ملازم بھرتی ہوتا ہے اسی سکیل میں ریٹائر بھی ہو جاتا ہے جس سے اس کا معاشی قتل ہوتا ہے گورنمنٹ اور سیمی گورنمنٹ کے محمکموں میں سروس سٹریکچر ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی پوری سروس میں پرموشن ہوتی ہی نہیں ہے سرکاری ملازمین ریاست اور ملک کی ترقی اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں بیوروکریسی کی اگر بات کی جائے تو وہ چھوٹے ملازمین کے حقوق کے حصول میں سب سے بڑی رکارٹ ہیں۔




