مزے کی بات یہ ہے کہ ڈائیوو کے آنے سے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا کلچر تبدیل ہو گیا۔ الفلاح بینک یہاں قائم ہوا تو ہمارے بینکاری نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ بہرحال، ہمیں سوچنا پڑے گا کہ بیرونِ ملک لوگوں کے آنے جانے سے کیا کیا بدلا ہے۔ ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ کاش انسان ہی بدل جاتا! لیکن باہر بیٹھا انسان کیسا ہے اور ہم کس قسم کے انسان کی تلاش میں ہیں؟ چونکہ ابھی تک ہمارے ہاں اصل انسان کے خدوخال ہی واضح نہیں ہیں، اس لیے ہمارا یہ خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکا۔ تاہم، دو مختلف افراد کا ملنا کوئی سطحی واقعہ نہیں ہوتا، اور جب دو سے کہیں زیادہ افراد اکٹھے ہو جائیں تو اجتماعیت کے ثمرات بے شمار ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم سب مل بیٹھیں، ماضی کو بھول جائیں اور ایک نئی صبح کا آغاز کریں۔ ہمیں پرزور انداز میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم ایک ہیں اور ہماری صدا بھی ایک ہی رہے گی۔ آمدم برسرِ مطلب! ہائر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے روحِ رواں پروفیسر نعیم مسعود نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں ایک محفل سجائی اور فکر انگیز موضوعات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے کو مزید آگے بڑھایا۔ موضوع انتہائی اہم، برموقع اور برمحل، بلکہ عصرِ حاضر کا ایک اہم مسئلہ تھا: بین الاقوامیت اور جامعات کی ترقی۔ پنجاب کی جامعات اور ان کی موجودہ مجموعی صورتِ حال کے تناظر میں یہ سوال بھی زیرِ غور آیا کہ حالاتِ حاضرہ کے پہیے کی رفتار کو کیسے تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک انتہائی اہم سوال یہ تھا کہ آیا اس وقت ترقی کے پہیے کو تیز رفتاری سے گھمایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔صوفیا نے چرخے کو گھمانے کی بات کی۔ بادی النظر میں یہ محض چرخہ گھمانے کی بات تھی، لیکن شاید صوفی انسان کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ممکن ہے کہ اس وقت یہی ضرورت ہو۔ لیکن جب انسان جاگ جاتا ہے تو پھر اسے دوڑنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یوں پہیے کی ایجاد ہوئی اور پہیے کی ایجاد کے بعد ترقی کا پہیہ چل نکلا۔ پھر تو چل سو چل! پہیے کی رفتار کی بدولت دنیائے رنگ و بو میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ یہ ایجادات کی دنیا ہے، انقلابا ت کی دنیا ہے اور حادثات و حوادث کی دنیا بھی۔ اس دنیا میں دماغ کی کھڑکیاں کھول کر اور آنکھوں پر فکر و دانش کی عینک لگا کر معاملات کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامیت کے فیوض و برکات سے پوری دنیا کا کلچر متاثر ہو گا، اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں ثقافتوں میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ ہمارا خوبصورت ملک، جس میں قدرتی وسائل بے بہا ہیں، خوبصورت مناظر اور سیر و سیاحت کے لیے ایک وسیع کینوس موجود ہے، اور ایک تنومند و پرجوش نوجوان نسل بھی آباد ہے۔ ہمارا مستقبل، بین الاقوامیت اور گلوبلائزیشن ایک فکر انگیز اور غور طلب موضوع ہے، اور اس پر کان دھرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری تعمیر و ترقی میں جامعا ت کا کردار انتہائی اہم ہے، اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ ہماری آبادی کا ایک کثیر حصہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہے۔ خصوصا پبلک سیکٹر کی درسگاہیں ان طبقات کے بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہیں، بلکہ بہت سے خاندانوں کے لیے اعلی تعلیم کے حصول کا واحد قابلِ رسائی راستہ بھی ہیں۔ گلوبل ولیج نے دنیا کی ہر چیز کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بڑی تعداد میں صاحبانِ تحقیق و جستجو بیرونِ ملک آ جا رہے ہیں۔ ایسے میں اس سوال پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہماری جامعات کی کارکردگی میں تبدیلی کا خواب کس حد تک شرمند تعبیر ہوا ہے۔ روایت سے جدت تک کا سفر، ہمارے ہاں تعلیمی معیار اور خصوصاً تحقیق کا معیار، ایسے موضوعات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور، صاحبِ علم، صاحبِ فکر اور صاحبِ الرائے ہیں۔ ان کے ہاں سوچ کی پختگی اور خیالات میں تنوع پایا جاتا ہے۔ وہ زندگی میں کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں، اور اس عزم کی تکمیل کے لیے ان کے پاس مصمم ارادہ اور روشن خیال ذہن بھی موجود ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ان کے پاس ہر معاملے کے مکمل اعداد و شمار موجود ہوتے ہیں۔ گویا وہ ایک باخبر دانشور ہیں اور اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ معلومات ہی اصل طاقت ہیں۔ پوری کائنات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طاقت کا کردار موجود ہے۔ ہاں، طاقت کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، لیکن طاقت اور طاقت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ معلومات سے حاصل ہونے والی طاقت کی بات ہی نرالی ہے۔ اسی نشست میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے اپنے دورہ جرمنی کا تفصیلی احوال بیان کیا۔ انہوں نے جرمنی کے ماضی اور حال کی پوری کہانی سنا کر اس کے آنے والے کل کے خدوخال واضح کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی تباہی سے دوچار ہو گیا تھا اور وہاں کے بے شمار مرد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ایسی مایوس کن صورتِ حال میں وہاں کی باشعور خواتین نے حالات کو سنبھالا دیا، اور جرمنی ایک بار پھر ترقی کے راستے پر گامزن ہو گیا۔ جرمنی کی تقسیم اور پھر اس کے دوبارہ متحد ہونے کا بھی تذکرہ ہوا۔ آج جرمنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے وہاں کی خواتین کی رفتار اور چال دیکھ کر ابتدا میں دھوکا کھایا، لیکن بعد میں انہیں صورتِ حال کی پوری سمجھ آ گئی۔ اس تجربے نے انہیں خواتین کی شمولیت اور ان کی صلاحیتوں سے استفادے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ یوں وہ افرادی قوت کے تبادلے اور بیرونِ ملک سے خواتین کی شمولیت کے امکانات پر بھی غور کرنے لگے۔یہ بھی بتایا گیا کہ جرمنی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد قابلِ ذکر ہے، جن میں بڑی تعداد ترک افراد کی ہے۔ مجھے پہلی مرتبہ جرمنی اور ترکی کی لازوال دوستی کے جذبات کا احساس ہوا۔ پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ ترکی کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب جرمنی ترکی کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ جرمنی کی وفاشعاری پر رشک ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے جرمنی کی تعمیر نو کا تفصیلی تذکرہ کر کے وہاں موجود ہم سب پاکستانیوں کو دعوتِ فکر دی۔ ترکی اور جرمنی کے باہمی تعلقات اور ورکنگ ریلیشن شپ کا ذکر کر کے انہوں نے ہمارے اربابِ حل و عقد کو بھی یہ پیغام دیا کہ پالیسی سازی میں فہم و فراست سے کام لینا چاہیے۔اس نشست میں سید جاوید علی شاہ، سابق وفاقی وزیر، سید مجاہد علی شاہ، سابق ایم پی اے ملتان، پروفیسر عاشق حسین ڈوگر اور دیگر خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ خصوصاً طلبہ و طالبات کی خصوصی دلچسپی دیدنی تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ انجم نے نقابت کے فرائض اس خوبی سے سرانجام دیے کہ حق ادا کر دیا۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، بین الاقوامی تعاون کے امکانات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے نوجوانوں کو ایسا علم، ہنر اور تحقیق کا شعور فراہم کریں جو انہیں ملکی و عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکے۔ یہی بین الاقوامیت اور جامعات کی ترقی کا حقیقی مقصد ہونا چاہیے۔




