لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک تازہ تجزیے کے مطابق سائیکوتھراپی پر مبنی علاج ٹائپ 2ذیا بیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کو بہتر بنانے اور وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔تحقیق کے نتائج نے بتایا کہ ذیا بیطس کے انتظام میں نفسیاتی معاونت بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مریضوں میں گلائیکیٹڈ ہیموگلوبن (HbA1c) کی سطح میں بہتری تین ماہ کے اندر دیکھی گئی جبکہ جسمانی وزن میں کمی طویل عرصے تک جاری رہنے والی فالو اپ مدت کے دوران نمایاں ہوئی۔ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں کو بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے ادویات کا باقاعدگی سے استعمال، خوراک میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمی سمیت مسلسل خود نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، ذہنی دبا اور بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے سے پیدا ہونے والے جذباتی مسائل بعض افراد کے لیے ان معمولات پر قائم رہنا مشکل بنا سکتے ہیں۔محققین کے مطابق کانسلنگ، کوگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) اور موٹیویشنل انٹرویو جیسے نفسیاتی طریقے ان مشکلات سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں اور انہیں ذیابیطس کی نگہداشت میں تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار بالغ افراد پر کی جانے والی 52 مطالعات کا منظم جائزہ اور میٹا تجزیہ کیا گیا۔محققین نے نفسیاتی مداخلتوں کے بعد HbA1c، جسمانی وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔نتائج اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ذیا بیطس کی نگہداشت میں طبی علاج کے ساتھ نفسیاتی معاونت کو شامل کرنا بعض مریضوں کے لیے شوگر کنٹرول اور وزن سے متعلق نتائج بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔




