سہیل آفریدی کو7 چیلنجزکا سامنا

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے سیاسی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے جن سیاسی ترجیحات، فیصلوں اور حکمتِ عملی کو اختیار کیا، اب انہی میں سے بعض فیصلے ان کے لیے مشکلات کا باعث بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔سہیل آفریدی کو اس وقت کم از کم سات بڑے سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔اقتدار کی مسند سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کی وسیع تر قیادت اور اراکینِ اسمبلی کے بجائے چند قریبی ساتھیوں کے مشوروں پر زیادہ انحصار کیا۔ شاہد خٹک، شفیع جان اور مینا خان آفریدی کے ساتھ مشاورت ان کے فیصلوں میں نمایاں رہی، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ اور پارٹی کی دیگر قیادت کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ اسلام آباد مارچ کے مرحلے پر یہ فاصلہ خود وزیراعلیٰ کے لیے بھی ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا۔وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے پارٹی کے اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی سمیت صوبائی اور مرکزی قیادت کے ساتھ اپنے روابط محدود کردیے۔ متعدد اراکینِ اسمبلی نجی محفلوں میں وزیراعلیٰ سے شکوے کرتے نظر آتے ہیں۔سیاسی رابطوں کی اس کمی کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ بیوروکریسی کا کردار مزید مضبوط ہوتا گیا، کیونکہ افسران کو یہ تاثر ملا کہ وزیراعلیٰ تک اراکین اسمبلی کی رسائی محدود ہے۔وزیراعلیٰ ہائوس آنے کے بعد سہیل آفریدی کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزرتا رہا۔ اکثر ہفتے کے سات دنوں میں پانچ دن اسلام آباد کے خیبرپختونخوا ہائوس میں قیام کے باعث صوبائی محکموں، انتظامی افسران اور دیگر اداروں کے ساتھ وزیراعلیٰ کے براہِ راست روابط متاثر ہوئے۔ اس صورتحال کا اثر بالآخر صوبے کی گورننس پر بھی پڑا۔سہیل آفریدی نے پارلیمانی اور سیاسی رابطوں کے بجائے سوشل میڈیا کو اپنی سیاسی تشہیر اور امیج بلڈنگ کا ایک اہم ذریعہ بنا لیا۔ سوشل میڈیا پر ایک مضبوط سیاسی تاثر ضرور قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی بحرانوں کا حل صرف سوشل میڈیا مہمات سے ممکن نہیں۔آج وزیراعلیٰ جس سیاسی بھنور میں گھرے ہوئے ہیں، اس سے نکلنے کے لیے انہیں سیاسی رابطوں، مشاورت اور پارلیمانی حمایت کی ضرورت ہے۔صوبے کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ کو وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل سیاسی اور انتظامی رابطے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر موجود رہا کہ وہ براہِ راست ملاقاتوں کے بجائے خطوط کے ذریعے وفاق کو مسائل سے آگاہ کرنے پر زیادہ انحصار کرتے رہے۔ نتیجتا صوبے کے متعدد مسائل کے حل میں کوئی نمایاں پیشرفت نہ ہو سکی۔عمران خان کی رہائی کے لیے سہیل آفریدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ کا وعدہ کیا تھا، لیکن پہلے ماہ میں ایسا نہ ہو سکا۔ تقریبا 10 ماہ بعد جب مارچ کا اعلان کیا گیا اور پھر اس کی تاریخ میں تبدیلیاں سامنے آئیں تو پارٹی کے اندر ان کے سیاسی فیصلوں پر سوالات اٹھنے لگے۔ یہی صورت حال اب وزیراعلیٰ کے لیے ایک نئے سیاسی امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔سہیل آفریدی کی سیاست پر سب سے بڑا سوال شاید مشاورت کا فقدان ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد اقدامات کا اعلان تو کیا، لیکن انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے وسیع تر مشاورت نہیں کی۔عمران خان کی رہائی کے لیے فورس بنانے سے لے کر 27 ستمبر کے احتجاج تک، اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے فارورڈ بلاک کے خاتمے تک، کئی معاملات میں پارٹی کے دیگر رہنماں اور اراکینِ اسمبلی کو اعتماد میں نہ لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔یہ تمام عوامل اس وقت ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ ایک طرف اسلام آباد مارچ کا اعلان ہے، دوسری طرف پارٹی کے اندر اختلافات اور اراکینِ اسمبلی کے تحفظات، جبکہ تیسری طرف وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدہ سیاسی تعلقات ہیں۔ایسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی حکومت، پارٹی اور پارلیمانی صفوں کو ایک سمت میں کیسے لے کر چلتے ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی، جو ان کی کابینہ کے رکن بھی ہیں، نے گفتگو کرتے ہوئے فیض کا شعر پڑھا:جی کا جانا ٹھہر گیا ہے’ صبح گیا یا شام گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں