ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے قابل تحسین اقدامات (اداریہ)

پاکستان قدرتی وسائل’ نوجوان افرادی قوت’ وسیع مقامی منڈی’ جغرافیائی محل وقوع اور متعدد پیداواری شعبوں میں موجود امکانات کے باعث غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کے لیے نمایاں مواقع رکھتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت اس امر کی عکاس ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے’ نجی شعبے کا کردار بڑھانے اور ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے صنعتیں قائم ہوتی ہیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، برآمدات بڑھتی ہیں اور حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مواقع سے مستفید ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خلیجی بحران پیدا نہ ہوا ہوتا تو ہم بھی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکے ہوتے، ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اور قیام امن کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسی منڈی ہے جہاں ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کو باآسانی راغب کر سکتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری انتہائی پرکشش’ منافع بخش’ باہمی طور پر فائدہ مند’ محفوظ اور مستحکم ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن اسٹاک ایکس چینج کی مارکیٹ اوپن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کو لندن اسٹاک ایکس چینج ٹریڈنگ اوپننگ کا اعزاز حاصل ہوا۔ وزیراعظم نے لندن میں دنیا کے معروف مالیاتی اداروں بارکلینر’ جے پی مورگن’ سٹی’ بلیک راک اور روتھ شیلڈ اینڈ کو کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکسان کے مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ 3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز لسٹنگ کی تقریب منعقد ہوئی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ لندن سٹاک ایکس چینج کی اس تقریب کا افتتاح کرنا میرے لیے باعث مسرت اور اعزاز ہے، یہ تقریب یقینا پاکستان کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خلیجی بحران کے تناظر میں ہم نئے اسباق سیکھیں، سرمایہ کار اب محفوظ منڈیوں کا جائزہ اور تجزیہ کر رہے ہیں اور پاکستان ایک ایسی منڈی ہے جہاں ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کو باآسانی راغب کر سکتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری انتہائی منافع بخش’ باہمی طور پر فائدہ مند’ محفوظ اور مستحکم ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت پاکستان اور لندن کے اہم مالیاتی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا مظہر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم کی سرمایہ کاروں کو دعوت ایک واضح اور مستقل معاشی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے۔ سرمایہ کاری اعتماد سے آتی ہے اور اعتماد نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل’ ادارہ جاتی اصلاحات’ توانائی کے مسائل کے حل’ ٹیکس نظام میں آسانی’ امن وامان اور کاروباری سہولتوں کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو قرضوں کے بجائے پیداوار’ برآمدات’ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار کرے۔ وزیراعظم کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت اسی سمت میں ایک اہم پیغام ہے۔ اب اصل امتحان اس دعوت کو عملی اعتماد میں تبدیل کرنے کا ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو محفوظ’ شفاف اور مستقل ماحول فراہم کر دیا جائے تو پاکستان نہ صرف سرمایہ کاری حاصل کر سکتا ہے بلکہ صنعت روزگار’ برآمدات اور معاشی ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں