انسانی دماغ کو پڑھنے والے ہیڈ فونز متعارف

میساچوسٹس (مانیٹرنگ ڈیسک) بوسٹن کی ٹیکنالوجی کمپنی نیورایبل نے 12 ای ای جی سینسرز سے لیس جدید ترین ہیڈفونز نیورایبل ون متعارف کرا دیے ہیں جو آڈیو کے ساتھ انسانی دماغ کی سرگرمیوں، تھکاوٹ اور توجہ کا براہ راست ریکارڈ رکھیں گے۔499 ڈالرز مالیت کے یہ ہیڈفونز ذہنی صحت کو مانیٹر کرنے کے لیے اسمارٹ واچز کی طرح ایک بہترین برین ٹریکر کے طور پر کام کریں گے۔جس طرح فٹنس ٹریکرز دل کی دھڑکن اور قدم گنتے ہیں، بالکل اسی طرح یہ ہیڈفونز آپ کے دماغ کی ڈائری مرتب کرتے ہیں۔ ان کے ایئر پیڈز میں لگے 12 سینسرز آئی او ایس (آئی او ایس) اور اینڈرائیڈ ایپ کے ذریعے صارف کی توجہ، ذہنی بوجھ، تھکاوٹ اور الفا پیک فریکوئنسی کو ٹریک کرتے ہیں۔یہ سینسرز اس وقت متحرک ہو جاتے ہیں جب ہیڈفونز کو ایپ کے ساتھ منسلک کر کے پہنا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دماغی سرگرمیوں کے برقی سگنلز کو لائیو ریڈنگز میں تبدیل کر دیتی ہے۔اس ڈیوائس کا ایک انتہائی دلچسپ فیچر برین بیٹری ہے جو نیند کی کمی، ذہنی تنا اور دماغی بوجھ کا جائزہ لے کر بتاتا ہے کہ آپ کے دماغ میں کام کرنے کی کتنی توانائی باقی ہے۔اسی طرح ایک کپیسٹی اسکور اور دماغی عمر کا فیچر یہ اندازہ لگاتا ہے کہ صارف تھکاوٹ کا شکار ہونے سے قبل مزید کتنی دیر تک کام پر توجہ مرکوز رکھ سکتا ہے۔عملی طور پر جب صارف کی توجہ بھٹکنے لگتی ہے تو فوکس سیشنز اسے فوری الرٹ کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمارٹ برین بریکس نامی فیچر ذہنی تھکاوٹ ظاہر ہونے پر کچھ دیر آرام کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔یہ ہیڈفونز نیورو اڈاپٹیو آڈیو سسٹم سے بھی لیس ہیں جو ذہنی کیفیت میں تبدیلی کے ساتھ ہی آڈیو کو ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ایپ میں موجود ہفتہ وار اور ماہانہ رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ آپ کی نیند اگلے دن کی کارکردگی پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔ جبکہ برین ڈیٹا بینکنگ کے ذریعے دماغی سرگرمیوں کی ایک مکمل ہسٹری محفوظ کی جاتی ہے۔ای ای جی ٹریکنگ کو بند کر کے انہیں عام پریمیم ہیڈفونز کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان میں 40 ملی میٹر کے بیریلیئم ڈرائیورز، شور کو ختم کرنے (ایکٹو نائس کینسلیشن)کے لیے 6 مائیکروفونز اور اردگرد کی آوازیں سننے کے لیے ایمبیئنٹ پاس تھرو موڈ شامل کیا گیا ہے۔اگر برین ٹریکنگ بند ہو تو اس کی بیٹری 22 گھنٹے تک چلتی ہے، جبکہ یہ ٹریکنگ آن ہونے کی صورت میں بیٹری لائف 12 گھنٹے ہے۔کمپنی کے مطابق یہ کوئی طبی آلہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی بیماری کی تشخیص یا علاج کرتا ہے، بلکہ یہ صرف صارفین کی ذہنی فلاح و بہبود کی ایک ڈیوائس ہے۔کمپنی کے سی ای او اور شریک بانی، رامسس الکائیڈ کا کہنا ہے کہ نیورایبل ون ان کی ایک دہائی سے زیادہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد دماغی سینسنگ کی ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر عام زندگی میں بدیہی اور کارآمد بنانا ہے۔اس سے قبل 2024 میں کمپنی نے ماسٹر اینڈ ڈائنامک کے اشتراک سے ایم ڈبلیو 75 نیورو اور قدرے ہلکا ماڈل ایم ڈبلیو 75 نیورو ایل ٹی متعارف کرایا تھا۔ تاہم نیورایبل ون ان کا پہلا ہیڈفون ہے جس کا ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کمپنی نے مکمل طور پر ان ہاس ڈیزائن کیا ہے۔کمپنی اپنی برین سگنل پروسیسنگ ٹیکنالوجی دیگر ڈیوائس میکرز کو بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ایچ پی کے ہائپر ایکس برانڈ کے ساتھ ایک برین ٹریکنگ گیمنگ ہیڈسیٹ بھی پیش کیا تھا اور اب تک کمپنی 45 ملین ڈالرز سے زیادہ کی فنڈنگ حاصل کر چکی ہے۔عام ای ای جی ڈیوائسز میں سگنلز کے معیار پر اکثر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن نیورایبل کا دعوی ہے کہ ان کی سگنل پروسیسنگ امریکی فضائیہ اور میو کلینک سے منظور شدہ ہے۔دماغی ڈیٹا اب عالمی سطح پر ایک ریگولیٹڈ کیٹیگری بنتا جا رہا ہے۔ نومبر 2025 میں یونیسکو کے رکن ممالک نے نیورو ٹیکنالوجی کی اخلاقیات کے حوالے سے عالمی تجاویز اپنائی تھیں جن میں اعصابی ڈیٹا کے سخت تحفظ اور اس کے تجارتی استعمال کو محدود کرنے پر زور دیا گیا تھا۔امریکی ریاستوں کولوراڈو اور کیلیفورنیا نے بھی اعصابی ڈیٹا کو اپنے پرائیویسی قوانین میں حساس زمرے میں شامل کر لیا ہے۔خریداروں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کا محفوظ شدہ دماغی ڈیٹا کون دیکھ سکتا ہے۔ اس حوالے سے نیورایبل نے واضح کیا ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فروخت نہیں کرتے اور نہ ہی اسے اشتہارات کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں