اس وقت جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے اکتوبر شروع ہے اور سرشام شہر میں ابھی سے دھندچھانا شروع ہو چکی ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ کیونکہ ابھی آنکھوں میں چبھن محسوس نہیں ہو رہی اس لیے شائد ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کے سرکاری ادارے متحرک نظر نہیں آتے۔ موجودہ ڈویژنل کمشنر فیصل آباد عمران حامد شیخ بھی پنجاب میں صوبائی سطح پر انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو لیڈ کر چکے جبکہ ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق اور اسسٹنٹ کمشنرز بھی متحرک ہیں۔ انہیں ہماری اس رائے کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے اور سموگ کے بحران کے حل کیلئے بطور ایک کلائمٹ رپورٹر مختصر ریسرچ کی حامل تجاویز ضرور زیر غور لانی چاہئیں۔ یقینا اگر ہم اپنے فضائی ماحول کو بہتر، صاف اور بڑھتے درجہ حرارت کو کسی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آنے والی نسلوں کیلئے بھی یہ نیکی کا کام اور صدقہ جاریہ ہوگا۔ ہمیں اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کرنی چاہیے۔ ہر سال نومبر کے آتے ہی فیصل آباد سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہر ایک خوفناک سیاہ اور زہریلی چادر(سموگ)کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اس کیساتھ ہی انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (EPA) اور مقامی انتظامیہ متحرک ہو کر فیکٹریوں کے چالان ،چمنیوں کی سیلنگ اور اینٹو ں کے بھٹوں کی عارضی بندش کے روایتی اقدامات شروع کر دیتی ہے۔ تاہم، یہ سوال شد ت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف چند ہفتوں کے لیے صنعتوں کو بند کر دینا ہی اس مسئلے کا واحد اور پائیدار حل ہے، یا انتظامیہ اصل وجوہات سے نظریں چرا کر محض بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے؟عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا کل گرین ہائوس گیسز یا کاربن کے اخراج (Carbon Emissions)میں حصہ محض 0.9فیصد (ایک فیصد سے بھی کم)ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی ماحولیاتی معاہدوں (مثلا پیرس ایگریمنٹ اورCOPکنونشنز)کے تحت پاکستان نے عزم ظاہر کر رکھا ہے کہ وہ 2030 تک اپنی کل گاڑیوں کا 30فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs)اور سولر توانائی جیسے متبادل ذرائع پر منتقل کرے گا تاکہ زہریلی گیسو ں کے اخراج کو کم سے کم کیا جا سکے۔ جس پرعمل درآمد کیلئے ملک کے مختلف صوبوں میں الیکٹر ک بسیں چلائی جارہی ہیں اور کاربن چھوڑنے والی گاڑیوں کو سولر اور الیکٹرک پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح توانائی کے پیٹرول، ڈیزل، ہیوی فیول آئل وغیرہ کی جگہ سورج، پانی اور آرگانک یعنی قدرتی اشیا کے استعمال سے متبادل توانائی کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔ بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ اور اربن ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کے اقدامات بھی عالمی ماحولیاتی معاہدو ں کی پاسداری کا اہم ثبوت ہے۔ ماحولیاتی رپورٹس اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سموگ اور فضائی آلودگی کا سب سے بڑا مرکز صنعتیں نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہے۔ گاڑیوں کا دھواں (TransportSector)فیصل آباد سمیت پنجاب کے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی اور سموگ کے مجموعی تناسب میں 40 سے 45فیصد سے زائد حصہ گاڑیوں کے زہر یلے دھوئیں کا ہے۔صنعتیں اور اینٹوں کے بھٹے: صنعتی دھواں اور بھٹے بالترتیب20% سے 25%کے قریب حصہ ڈالتے ہیں۔ زرعی باقیات کو آگ لگانا: فصلوں کی باقیات جلانا 15%سے 20%تک آلودگی کا باعث بنتا ہے۔فیصل آباد میں صنعتی فضلے اور فیکٹریوں کیساتھ ساتھ جو سب سے بڑا خطرہ نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ سڑکوں پر چلنے والی خستہ حال ٹرانسپورٹ ہے۔ پرانے ماڈل کے بیڈ فورڈ ٹرک اور پرانی بسیں: یہ گاڑیاں بنیادی طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں اور بلا جھجھک ناقص ڈیزل کا استعمال کرتے ہوئے زہریلا دھواں (کاربن مونو آکسائیڈ اور پرٹیکیولیٹ میٹر PM 2.5)فضائوں میں چھوڑتی ہیں۔ صنعتی اداروں اور ملوں کے مزدوروں کو لانے لے جانیوالی بسیں اور وینز شدید بدحالی کا شکار ہیں۔سیکیورٹی کمپنیوں کے زیر استعمال کیش والی بیشتر گاڑیاں زنگ آلود اور فٹنس معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ان گاڑیوں کو کنٹرول کرنے یا ان کے سڑک پر چلنے کے قابل (Roadworthiness)اور فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کرنے کے لیے موثر میکانزم مکمل طور پر غائب ہے۔سموگ میں اضافے کی ایک اور بنیادی وجہ فیصل آباد اور دیگر شہروں میں جاری ترقیاتی منصوبے، ماس ٹرانزٹ کے لیے سڑکوں کی کھدائی اور تعمیراتی کام ہیں۔ کھدائی کے بعد مٹی کو سڑکوں پر بغیر پانی کے چھڑکائو کے چھوڑ دیا جاتا ہے، جو خشک ہوا کے ساتھ مل کر PM 2.5اور PM10کی مقدا ر میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔ یہ گرد و غبار ہوا میں گھل کر سموگ کی شدت کو دوگنا کر دیتا ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے صرف عارضی طور پر فیکٹریوں کو بند کرنے کے بجائے زہریلی آلودگی کی اصل جڑوں پر توجہ دیں تو انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (EPA)کا کام انتہائی آسا ن ہو سکتا ہے۔فٹنس کی سخت چیکنگ: پرانے ماڈل کے ٹرکوں، بسوں اور سیکیورٹی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جائیں اور سموگ کنٹرول ڈیوائسز (Scrubbers Filters)نہ لگانے والی گاڑیوں پر مستقل پابندی لگائی جائے۔ فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور مزدوروں کی آمدورفت کے لیے الیکٹرک بسوں کو ترجیحی بنیادوں پر متعارف کرایا جائے۔ شہر میں کسی بھی کھدائی یا تعمیراتی کام کے دوران پانی کا باقاعدہ چھڑکائو اور مٹی کو ڈھانپنا لازمی قرار دیا جائے تا کہ گرد و غبار فضائی آلودگی کا باعث نہ بنے۔صنعتوں اور بھٹوں کو یکلخت بند کر کے معاشی نقصان پہنچانے کے بجائے، انہیں گرین ٹیکنالوجی اور ”زگ زیگ” ٹیکنالو جی پر منتقل کرنے کے لیے آسان اقساط پر قرضے اور سبسڈی دی جائے۔سموگ محض ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ہے۔ جب تک ہم ٹرانسپورٹ کے نظام کی اصلاح، پرانی گاڑیوں کی روک تھام اور ڈسٹ پولوشن کو کنٹرول نہیں کریں گے، تب تک فیکٹریوں پر تالے لگانے سے فیصل آباد کی فضائیں پاک نہیں ہو سکتیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نومبر کی وقتی کارروائیوں سے نکل کر پورے سال کی حکمت عملی تشکیل دے۔




