حکومت اور پی ٹی آئی لچک کا مظاہرہ کریں (اداریہ)

پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کا براہ راست تعلق ملک کی معاشی ترقی’ سرمایہ کاری’ روزگاری اور عوامی فلاح سے ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات نے ایک مرتبہ پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سیاسی قوتیں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کوئی غیر معمولی بات نہیں اس لیے حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی بے یقینی نہ صرف حکومت کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں’ سرمایہ کاری اور عام شہری کے اعتماد پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ جب سیاسی درجہ حرارت بلند ہوتا ہے تو ملکی معیشت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور حکومت کی توجہ بھی عوامی مسائل کے بجائے سیاسی کشمکش پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سیاست میں مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ فریقین لچک دکھانے اور وعدوں پر قائم رہنے کیلئے تیار ہوں۔ جمہوری معاشروں میں فیصلے سیاسی جماعتوں کی اجتماعی دانش اور قومی مفاد کی بنیاد پر ہوتے ہیں، حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ بات بار ہا کہی جاتی ہے کہ سیاسی مخالفین کی منفی سرگرمیوں کے باعث انہیں عوامی مسائل کے حل کے لیے یکسوئی نہیں مل رہی۔ اس دلیل میں کسی حد تک وزن ہو سکتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ رکاوٹ کس نے ڈالی وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کا حل ایک ہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک وسیع تر قومی مکالمے کا آغاز کریں ایک ایسا مکالمہ جس میں کسی کو دیوار سے نہ لگایا جائے اور سب کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملے۔ اس میں معاشی پالیسی’ گورننس’ انتخابی اصلاحات اور سیاسی کارکنوں کے مقدمات جیسے تمام معاملات پر کھل کر بات ہو اور ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اگر مذاکرات بار بار ناکام ہوتے ہیں تو ان کی وجوہ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بات چیت کا دروازہ کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر چیلنجز سے دوچار ہے۔ سرحدوں پر کشیدگی ہے، دہشت گردی کے خطرات برقرار ہیں اور معاشی دبائو بدستور ہے۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات کو سیاست کے دائرے تک محدود رکھنا چاہیے اور قومی سلامتی اور بقا کے معاملے میں متحد نظر آنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ سیاست میں احتجاج ہی سب کچھ نہیں۔ سیاسی جماعتیں ہنگامہ آرائی سے کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ جو ملتا ہے وہ مفاہمت’ ہم آہنگی اور پرامن جمہوری راستوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی جماعت کی سٹریٹ پاور یا قوت انتشار کی وجہ سے کسی خاص وقت میں حکومت مصلحتاً کمپرومائز کرنے اور پیچھے ہٹنے پر تیار ہو جائے مگر یہ ایسا مستقل اور پائیدار نہیں ہوتا، پاکستان کسی مزید طویل سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوام مہنگائی’ روزگار’ تعلیم’ صحت’ بجلی’ گیس اور دیگر بنیادی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ان مسائل کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہو گا۔ حکومت اور پی ٹی آئی اگر مذاکرات کے ذریعے اختلافات میں کمی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی ضد اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات’ برداشت اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ دونوں فریق اپنے بنیادی موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی قابل عمل سمجھوتے کی گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔ جمہوریت میں کوئی فریق ہمیشہ کیلئے اقتدار میں نہیں رہتا، لیکن ملک اور ریاست ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات کا حل مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا چاہیے۔ اگر حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں حقیقی لچک کا مظاہرہ کریں تو سیاسی کشیدگی کم’ جمہوری عمل مضبوط اور ملک کے معاشی وعوامل مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں