شاید افراط و تفریط کا عمل انسان کے مزاج میں پایا جاتا ہے اور یہ کوئی مثبت پہلو نہیں۔ اس کا دارومدار بھی تعلیم و تربیت پر منحصر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اعتدال کے معاملے میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصی تاکید فرمائی، اور صاحبانِ علم و تحقیق نے ہمیشہ سے ہی اعتدال کی پالیسی کو مدنظر رکھا۔ مجموعی طور پر معاشرے نے بھی مذکورہ صاحبان کے اقوال و افعال کو پیشِ نظر رکھا، البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ماننے والوں میں جوں جوں اضافہ ہوا، تو ماننے والوں کا علمی پس منظر ایک جیسا نہیں رھا۔ یوں ان کی تعلیمات، خصوصاً کرامات کے بیان میں پھر وہی افراط و تفریط پیدا ہوئی اور ان کے متعلقین اور ناقدین کے درمیان مباحث کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ویسے تو مذکورہ بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہر شخص کی ہر بات سے اتفاق یا ہر بات سے اختلاف کا امکان ہوتا ہے۔ حجت فقط اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہیں، اور یہ تعلیمات قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ کاش ہم قرآن و احادیث کے طالب علم بن جاتے اور شعوری طور پر ان تعلیمات پر کاربند ہوجاتے تو ہم پر افراط و تفریط کے دروازے مستقل طور پر بند ہو جاتے ۔ سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات ایک اہم بحث ہیں، اور جب معاملہ بحث و تمحیص تک پہنچ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیرِ بحث چیز میں کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ ہاں، ہر دیکھنے والا اسے اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور جس نے جیسے دیکھا، ویسے ہی اپنی رائے دے دی۔ سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں رائے دینے والوں کی کوئی کمی نہیں، اور جس کے جو دل میں آتا ہے، کہے چلا جاتا ہے۔ بظاہر تو یہ ایک عجیب صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے اور لوگوں میں مذکورہ میڈیا کے بارے میں تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بہرحال، یہ ضرور ہے کہ سوشل میڈیا پر پائی جانے والی بحثوں نے ہر سنجیدہ انسان کو سوچ بچار کرنے پر مجبور کردیا ہے، اور اب ہر شخص سچ کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اس پہلو کے بارے میں شعوری طور پر لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر بندہ علم و تحقیق کی دنیا میں جاکر حق اور سچ کے موتی ڈھونڈنے کی کم از کم کوشش تو کرے۔ باقی، بقول پیر سید مہر علی شاہ رحمہ اللہ:”کوئی ورلیاں موتی لے تریاں”قارئینِ کرام! ربیع الثانی کا مہینہ ہے اور مستند روایات کے مطابق حضرت سید عبدالقادر گیلانی المعروف غوثِ اعظم کا وصال 11 ربیع الثانی 561 ہجری کو ہوا۔ جیسا کہ مذکورہ سطور میں سوشل میڈیا اور افراط و تفریط کی بات کی گئی ہے، عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا پر مذکورہ بزرگ ہستی بھی بہت زیرِ بحث رہتی ہے۔ مختلف قسم کے واقعات ان سے منسوب کرکے ان کے چاہنے والے اور ان کے ناقدین اپنی اپنی “بلے بلے” کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معاملہ بھی افراط و تفریط کے لیے ایک کیس اسٹڈی ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ راقم الحروف کو ایک دوست کے گھر کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ان کے ایک مہمان لمبی چوڑی چھوڑ رہے تھے اور باتوں باتوں میں فرمانے لگے کہ جہالت کی انتہا دیکھیں کہ لوگ غوث پاک، غوث پاک کی بات کرتے ہیں، حالانکہ مجھے آج تک یہ نہیں پتا، اور نہ ہی میں نے یہ جاننے کی کبھی کوشش کی ہے کہ یہ غوثِ اعظم کون ہیں۔ خیر، سب شرکا خاموش رہے۔ اس کے بعد تو موصوف بہت ہی مدبر بن کر حضرت عبدالقادر گیلانی المعروف غوثِ اعظم کی شخصیت کے بارے میں “ابا تبا” بولنے لگے۔ جس پر راقم الحروف کو تکلیف ہوئی۔ کیوں ہوئی، یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ تاہم، میں نے ان سے سوال کیا: “حضرت! میرے والد صاحب کو میرے علاوہ کبھی کسی کو یاد کرتے ہوئے یا ان کا ختم دلاتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا۔ کیا کبھی آپ کے والدِ محترم کا، آپ کے علاوہ، کسی اور نے ختم دلایا ہے؟ “صاحبِ موصوف گویا ہوئے: “کسی کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ “اس پر ہم نے دلیل کے طور پر عرض کیا کہ حضرت عبدالقادر گیلانی وہ ہستی ہیں جن کے نام پر ہر قمری مہینے کی ہر گیارہ تاریخ کو گھر گھر اس قدر ختم دلایا جاتا ہے کہ ان ایام میں لاہور جیسے شہر میں دودھ کم پڑ جاتا ہے۔ کم از کم اگر آپ کو ایسی شخصیت کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور آپ علم کے متلاشی ہیں تو آپ کو ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس پر “زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد” والی کیفیت طاری ہوگئی۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کا پہلو ناپید ہے۔ جس کے جو جی میں آتا ہے، کہے چلا جاتا ہے۔ بلاشبہ مکاشفات اور مشاہدات کی ایک دنیا ہے، اور یہ دنیا اوراد و وظائف، مراقبہ و مجاہدہ کی بنیاد پر آباد کی جاتی ہے۔ واقفانِ حال ہی اس معاملے کو جانتے ہیں، اور ایسی ہستیوں نے تو یہ کہہ کر سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے کہ “من نمی دانم”۔ویسے بھی پنجابی صوفی شاعر میاں محمد بخش نے کیا خوب فرمایا ہے:”عاماں بے اخلاصاں اندر خاصاں دی گل کرنی مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی”مختصر اور جامع بات یہ ہے کہ سید عبدالقادر گیلانی المعروف غوثِ اعظم کون تھے؟ ان کی تعلیمات کیا تھیں؟ اور ان کے بارے میں ان کے ہم عصر یا معروف بزرگانِ دین اور علمائے کرام کا کیا خیال تھا؟اسمِ گرامی عبدالقادر گیلانی، القاب غوثِ اعظم، محی الدین اور پیرانِ پیر۔ یکم رمضان470ہجری کو جیلان میں پیدا ہوئے ۔ نسبی طور پر والد کی طرف سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد سے تھے، یوں انہیں نجیب الطرفین کہا جاتا ہے۔ اپنے آبائی علاقے جیلان سے علم کے حصول کے لیے بغداد تشریف لائے اور وہاں انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس، ارشاد و ہدایت، تزکی نفس کے لیے مجاہدہ، مراقبہ اور ریاضت، بلکہ مکاشفات، مشاہدات اور کرامات کے حوالے سے بھی ان کی ایک تاریخ ہے۔ اور تاریخ ایسے تھوڑا بن جاتی ہے؛ تاریخ کے دامن میں ان گنت واقعات اور کمالات ہوتے ہیں۔ان کی اہم تصانیف میں “غنی الطالبین”، “فتوح الغیب” اور “الفتح الربانی” وغیرہ شامل ہیں۔ قصیدہ غوثیہ کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ بھی ان کی تخلیق ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ کسی نے ان کے بارے میں یہ قصیدہ قلم بند کیا ہے۔ ویسے بھی قصیدہ شاعری کی وہ صنفِ سخن ہے جس میں شاعر کسی کی تعریف و توصیف میں اشعار لکھتا ہے۔ بہرحال، یہ امر مزید تحقیق طلب ہے۔بغداد کا علمی ماحول اور عبدالقادر گیلانی کا کردار ایک اہم موضوع ہے۔ تصوف یا روحانیت کی دنیا میں غوثِ اعظم کا مقام جاننے کے لیے شرف الدین بو علی قلندر کے اس شعر سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے: “سگِ درگاہِ جیلان شو چو خواہی قربِ ربانیکہ بر شیراں شرف دارد سگِ درگاہِ جیلانی”بزرگانِ دین، اور خصوصا حضرت عبدالقادر گیلانی کی خدمات یقینا قابلِ قدر ہیں۔ کاش ہم بزرگانِ دین کو محض ماننے تک اکتفا نہ کرتے بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتے۔ افراط و تفریط سے گریز کرتے تو آج اتنے بڑے بزرگ کے بارے میں سوشل میڈیا پر افسانے نہ سنائے جاتے، بلکہ ان کی اصل تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرکے شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کو کھول کر بیان کیا جاتا۔




