پرائمری سٹروک سینٹرز کا قیام’ صحت کے شعبے میں اہم پیشرفت (اداریہ)

فالج ایک ایسی طبی ایمرجنسی ہے جس میں چند منٹوں کی تاخیر بھی مریض کی زندگی اور صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ دنیا بھر میں سٹروک کو انسانی جانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے نتیجے میں بچ جانے والے بہت سے مریض طویل عرصے تک جسمانی معذوری’ بولنے میں دشواری اور دیگر پیچیدگیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں پنجاب میں 40 پرائمری سٹروک سینٹرز کا مکمل طور پر فعال ہونا صحت عامہ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان مراکز کے ذریعے فالج کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ فالج کے مریض کے لیے سب سے اہم چیز وقت ہے۔ اگر کسی شخص کو اچانک جسم کے ایک حصے میں کمزوری یا سُن ہونا’ بولنے یا سمجھنے میں دشواری’ چہرے کا ایک طرف جھک جانا’ چلنے میں توازن کا مسئلہ یا اچانک شدید سردرد محسوس ہو تو اسے فوری طور پر طبی مرکز پہنچانا ضروری ہے۔ ایسے مریض کو گھر میں علاج’ ٹوٹکے یا وقت گزارنے کے بجائے فوری طبی معائنہ درکار ہوتا ہے لہٰذا پرائمری سٹروک سینٹرز اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں ہر ڈویژن میں سٹروک سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب میں 40 پرائمری سٹروک سینٹر پوری طرح فنکشنل ہو چکے ہیں اور مزید 17 سٹروک سینٹر دسمبر تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ سی ایم سٹروک پروگرام سے 336 فالج زدہ مریضوں کی زندگی بچا لی گئی ہے اور 336 افراد کو فالج اٹیک ہونے پر بروقت چیف منسٹر سٹروک سینٹر پہنچنے پر نہ صرف جان بچا لی گئی بلکہ ہمیشہ کی معذوری سے بچا لیا گیا ہے۔ بھکر’ لیہ’ گوجرانوالہ’ نارووال’ جھنگ’ جہلم’ ٹوبہ ٹیک سنگھ’ ساہیوال’ گجرات کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں فالج کے علاج کیلئے انجکشن موجود ہیں۔ چیف منسٹر سٹروک پروگرام کے تحت 40 پرائمری سٹروک سینٹرز میں فالج کے مریضوں کے علاج کیلئے تربیت یافتہ ڈاکٹر اور عملہ بھی موجود ہے۔ ہسپتالوں میں 40 پرائمری سٹروک سینٹر میں فالج زدہ مریضوں کے علاج کیلئے 710 ٹی این کے انجکشن بھی دستیاب ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی’ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد’ نشتر ٹو ملتان’ ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا’ الائیڈ ہسپتال ٹو فیصل آباد میں سٹروک سینٹر قائم ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ درست اور بروقت معلومات تک رسائی کا حق بہتر جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو سرکاری معلومات تک فوری اور آسان رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت عوامی سہولت’ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ عوام کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فالج ایسی بیماری نہیں جس میں علاج کے لیے کئی گھنٹے انتظار کیا جائے۔ علامات ظاہر ہوتے ہی مریض کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز پہنچانا چاہیے۔ اس حوالے سے عوامی آگاہی میں میڈیا’ تعلیمی اداروں اور کمیونٹی تنظیموں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ اگر عام شہری فالج کی ابتدائی علامات کو پہنچانے کے قابل ہو جائیں تو بہت سے مریضوں کو بروقت علاج کیلئے پہنچایا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں پرائمری سٹروک سینٹرز کا قیام صحت کے شعبے میں ایک اہم سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اقدام کو محض تعداد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر مرکز کو حقیقی معنوں میں فعال’ مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔ فالج کے مریض کے لیے وقت ہی سب سے قیمتی چیز ہے اگر بروقت تشخیص’ فوری علاج اور مناسب منتقلی کا نظام مضبوط بنا دیا جائے تو نہ صرف قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ بہت سے افراد کو مستقل معذوری سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت مند معاشرے کی بنیاد مضبوط اور بروقت طبی سہولیات پر قائم ہوتی ہے۔ اس لیے سٹروک سینٹرز کو مزید موثر بنانا پنجاب کے صحت کے نظام کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں