چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے صفدرآباد میں پتنگ بازی عروج پر

صفدرآباد(نامہ نگار)شہر بھر میں پتنگ بازی عروج پر پہنچ گئی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے لوگون کے حوصلے بلند ہو گئے ۔گورنمنٹ کے احکامات کو پتنگ کی طرح ہوا میں اڑا کررکھ دیا ۔ صفدرآباد کے گلی محلوںمیں چھتوں پر چڑھ کر سر عام پتنگ بازی کا خونی کھیل جاری ،پولیس خامو ش تماشائی بن گئی ،کون روکے گا اس خونی کھیل کو شہریوں نے ارباب اختیار نے ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا ۔نمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ سے شہریوں نے ملاقات میںکہا کہ ہمارے اس شہر میںجو بھی پتنگ بازی کر رہا ہے اسے کس نے اجازت دی ہے؟جب حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی لگا رکھی ہے تو لوگ کیوں یہ کام کر تے ہیں۔اس کو روکنا کس کا کام ہے کیا سکول کا ہیڈ ماسٹر اسے روکے گا یا میونسپل کمیٹی کا چیف آفیسر کس کے پاس ہیں اختیارات پتنگ بازی کو روکنے کے؟اگر پولیس کے بس سے باہر ہے تو یہ کام پیرا فورس کے حوالے کیا جائے جو گلیوں مین پھیل جائیں اور گھروں کی چھتوں پر پتنگ بازی کرنے والوں کو پکریں ان کو سزائیںدلوائیں ۔شہریوں نے کہا کہ حد ہو گئی پاکستانی اپنے ملک کے کسی قانون کو ہی نہیں مانتے کون منوائے گا قانون ؟پتنگ کا سامان بیچنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ملک میںہر بندہ اپنا ہی قانون چلاتا ہے ۔ریاست اپنی رٹ قائم کرے ۔پتنگ اڑانا ایک جرم ہے جو سر عام جاری ہے کیا حکومت ایسے ہی چلتے رہے گی ،خدارا ایکشن لو اور جو بھی پتنگ بازی میںملوث ہو،بچہ ہو یا بڑا سب کو رگڑا لگائو تب یہ لوگ سمجھیںگے،ورنہ ہنوز دلی دور ست والا معاملہ بنے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں