سیاسی قوتیں افہام وتفہیم کا مظاہرہ کریں (اداریہ)

ملک سیاسی استحکام’ جمہوری تسلسل اور قومی یکجہتی کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کریں۔ وزیراعظم کی جانب سے کے پی کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے آمادگی ایک مثبت پیش رفت ہے’ لہٰذا اس آمادگی کو عملی اقدامات’ سنجیدہ مذاکرات اور قابل عمل فیصلوں میں تبدیل کیا جائے، جمہوری نظام کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ اختلاف رائے کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے اور عوامی مفادات کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ وزیراعظم کی جانب سے سیاسی مسائل کے حل کے لیے تیا رہونے کا پیغام اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطوں کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ سیاسی جماعتیں مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ جمہوریت میں کسی ایک فریق کی مکمل کامیابی اور دوسرے کی مکمل شکست کے بجائے ایسا حل تلاش کرنا زیادہ اہم ہے۔ جس سے ملک اور عوام کو زیادہ فائدہ پہنچے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ’ لیکن قومی سلامتی’ معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال خصوصاً پی ٹی آئی لانگ مارچ اور مذاکراتی ڈیڈلاک بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر موقف دہرایا کہ معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کیا جائے اور وہ اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو KP میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں۔ وفاقی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات سیاسی انداز میں حل ہوں۔ اب بھی وقت ہے کہ معاملات کے سلجھائو کیلئے کے پی حکومت اور اپوزیشن معاملے کو سنجیدہ لے۔ حکومت اب بھی مذاکرات’ سیاسی حل کیلئے تیار ہے مگر اپوزیشن کو وفاق پر چڑھائی سے گریز کرنا ہو گا۔ وفاق پر دھاوا بولنے سے مسائل حل نہیں بلکہ مزید مسائل پیدا ہونگے۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کر کے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سمجھنا ہو گا کہ لانگ مارچ اور مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے۔ ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سرتوڑ محنت کی اور ملکی معیشت کو مشکل حالات سے نکالا ہے۔ معاشی’ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فی الحال فریقین سے بیک ڈور رابطے جاری رکھیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم کی مذاکرات کے لیے آمادگی کو ایک سنجیدہ سیاسی حل کی بنیاد بنایا جائے۔ وفاقی حکومت’ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور دیگر سیاسی قوتیں اختلافات کم کرنے’ مشترکہ ترجیحات طے کرنے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کریں۔ مذاکرات کی کامیابی کا پیمانہ سیاسی بیانات نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔ اگر تمام فریق ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داریوں کو ترجیح دیں تو خیبرپختونخوا میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت تصادم کے بجائے مفاہمت’ الزام تراشی کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے، کیونکہ مضبوط جمہوریت’ مستحکم وفاق اور خوش حال پاکستان کی بنیاد باہمی احترام اور مشترکہ جدوجہد ہی سے رکھی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں