فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملک بھر میں کوئلہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے کے باعث اینٹ بھٹہ انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ ایندھن اور مال برداری کے اخراجات میں سنسنی خیز اضافے کی وجہ سے اینٹوں کی پیداواری لاگت (Production Cost) تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے بھٹہ مالکان کو کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا شدید اندیشہ لاحق ہو گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن شیخوپورہ روڈ،ملت روڈ کی مشترکہ میٹنگ سے صدر رانا فرمان خاں،جنرل سیکر ٹری حاجی غلام مصطفی، سینئر نائب صدر رانا شیر خاں، ساجد حسین پنسوتہ’ رضوان حسین رحمانی نے خطاب کر تے ہوئے کیا۔حاجی یونس، میاں قربان، سعید جٹ، رانا عمران، رانا عدنان نصیر ،حاجی شہباز،رانا فریاد، چاچا فاروق،فیصل رحمانی، جاوید پنسوتہ، نصر مجید،حاجی اقبال، رانا نواز ماجھا، پپو رحمانی اور دیگر بھی اس موقع پر موجودتھے۔بھٹہ مالکان کا کہنا ہے کہ اینٹ کی تیاری میں کوئلہ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ خام مال کی منتقلی اور مال برداری کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال لازمی ہے۔ حالیہ دنوں میں کوئلے کے ریٹس میں ہونیوالے مسلسل اضافے نے صنعتی پہیے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مزید برآں، پیٹرولیم مصنوعات کی گرانی کے باعث ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں بھی ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جس سے اینٹ کی فی ہزار پیداواری لاگت میں غیر معمولی برپا ہو چکا ہے۔




