ترسیلات زر 14.157 ارب ڈالر سے تجاوز’ معاشی استحکام کیلئے اہم پیشرفت (اداریہ)

پاکستان کی معیشت میں سمندرپار پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے وطن عزیز بھیجی جانے والی رقوم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی معاشی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر’ ادائیگیوں کے توازن اور معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سمندرپار پاکستانیوں کی ترسیلات زر 14.157 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا ایک اہم معاشی پیش رفت ہے، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اپنے وطن سے مضبوط تعلق اور قومی معیشت میں ان کی خدمات کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اس پیش رفت کے حقیقی فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات’ سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جسے طویل عرصے سے معاشی دبائو’ مہنگائی بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات اور زرمبادلہ کے حصول جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے سہارا ثابت ہوتی ہیں۔ جب سمندرپار پاکستانی اپنی محنت کی کمائی وطن بھیجتے ہیں تو ان رقوم سے ان کے اہل خانہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، بچوں کی تعلیم جاری رہتی ہے، علاج معالجے کی سہولت حاصل ہوتی ہیں اور گھرانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح ترسیلات زر کا فائدہ صرف قومی سطح پر نہیں بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے سمندرپار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا مجموعی حجم 14.157 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ستمبر 2026ء کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے سمندرپار پاکستانیوں کی مجموعی ترسیلات زر 14.157 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ ستمبر کے دوران سمندرپار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 251 ملین ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی پاکستان میں مجموعی سرمایہ کاری 2.268 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس میں نیا پاکستان روایتی سرٹیفکیٹس میں 740 ملین ڈالر’ اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 1.375 ارب ڈالر جبکہ پاکستان سٹاک ایکس چینج میں 153 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ترسیلات زر میں اضافہ یقینا خوش آئند ہے، لیکن قومی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ’ توانائی کے شعبے میں بہتری’ ٹیکس نظام کی اصلاح’ مہنگائی پر قابو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو ایسی معاشی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس سے ملک میں صنعتی سرگرمیاں بڑھیں اور نوجوانوں کو اپنے وطن میں باعزت روزگار میسر آ سکے۔ بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو بھی ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ عالمی منڈی میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ ترسیلات زر 14.157 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہے، یہ اعداد وشمار بیرون ملک پاکستانیوں کی محنت’ قربانی اور وطن سے محبت کا ثبوت ہے۔ حکومت کو اس قیمتی معاشی تعاون کو مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے قومی ترقی میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ترسیلات زر کے قانونی ذرائع کو فروغ دینے’ بیرون ملک پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے سے اس شعبے کی افادیت مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور ساتھ ہی ملکی پیداوار’ برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے، یہی حکمت عملی قومی معیشت کو مضبوط اور عوام کے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں