تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز کے قریب2بحری جہاز ڈوب گئے، جبکہ ایران نے امریکا کے مطالبات تسلیم ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث خطے میں سمندری آمدورفت متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت پر بھی دبا بڑھنے کے خدشات ہیں۔الجزیرہ کے مطابق ایک بحری جہاز کو کسی ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرا سمندری بارودی سرنگ کی زد میں آکر ڈوب گیا۔ ان واقعات کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کی آمدورفت سست پڑ گئی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نہ تو غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کا خواہش مند ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایرانی مطالبات تسلیم کیے جانے تک لڑائی جاری رہے گی۔دوسری جانب یمن کے صوبے تعز میں حوثی جنگجوں اور حکومتی فورسز کے درمیان بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ یمنی فوج نے دعوی کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 200 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔ اس علاقے میں جہازوں پر حملوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے امکان کے باعث مشرقِ وسطی اور وسطی ایشیا کی 2026 کی معاشی ترقی کے اندازوں میں کمی کی ہے، تاہم راستہ دوبارہ کھلنے کی توقع پر 2027 میں معاشی بہتری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔




