سکول کی چھت گرنے سے خاتون ٹیچر اور 28طلبہ جاں بحق

پشاور(بیوروچیف) پشاور میںنجی سکول کی چھت گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے، جس کے نتیجے میں 28بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہو گئے۔ دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیرسکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122نے ایمبولینسز کے ذریعے 40سے زائد زخمی طلبہ اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔ہسپتال انتظامیہ نے پہلے 6 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جبکہ مزید زخمیوں کی اسپتال منتقلی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔بعد ازاں ہسپتال ذرائع نے چھت گرنے کے واقعے میں 29 ہلاکتوں کی تصدیق کردی، جن میں28 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔مقامی ذرائع ے مطابق ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم کے مطابق تمام بچوں کی عمریں13سال تک ہیں جب کہ ایک خاتون ٹیچر کو بھی مردہ حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے معصوم بچوں سمیت جاں بحق ہونے والوں کی بلندی درجات کی دعا کی ہے۔انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور ان کے لیے صبر جمیل و زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دردناک سانحہ ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔پاک فوج کے جوان دیگر ریسکیواور دیگر ریلیف اداروں کے ہمراہ شانہ بشانہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسکول اسٹاف کو ریسکیو کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ پاک فوج اور دیگر ریسیکو اداروں کے جوان ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسٹاف کو نکال کر اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں