لاہور (بیوروچیف) لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج کی پنشن نہ دینے کے فیصلے کیخلاف دائردرخواست خارج،عدالت نے قرار دیا ہائیکو رٹ اپنے یا اپنے ججوں کے فیصلوں کا خود جائزہ نہیں لے سکتی،،نہ ہی اسی عدالت میں آئینی درخوا ست دائر کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ظفراقبال چودھری کی درخواست خارج کی۔جسٹس عاصم حفیظ نے جسٹس ریٹائرڈ ظفر اقبال چوہدری کی درخواست خارج کرنے کا پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قراردیاگیا۔ فیصلے میں قراردیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائیکورٹ اپنے فیصلوں یا اپنے ججوں کے فیصلوں کیخلاف دائردرخواست پرسماعت نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس اور ججز کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ ظفراقبال چوہدری کوپنشن نہ دینے کا فیصلہ برقرار ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق یہ درخواست ہائیکورٹ کے رجسٹرارکے اس خط کیخلاف دائرکی گئی تھی جس میں درخواست گزار کو پنشن دینے سے انکار کیا گیا تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جج صاحبان اور انتظامی کمیٹیاں مجموعی طور پر عدالتی ادارے کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے فیصلوں کیخلاف اسی ہائیکورٹ میں الگ سے آئینی درخواست دائرنہیں کی جا سکتی۔




