جڑانوالہ (نامہ نگار) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے ڈیرے قصر نور چک نمبر 65گ ب جڑاوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کی پی ٹی آئی کے حق میں پریس ریلیز بہت کچھ بتا رہی ہے، تاریخ اس دستاویز پر خود مہر ثبت کرے گی،ٹی ٹی پی نے کبھی کسی دوسری سیاسی جماعت کے حق میں پریس ریلیز نہیں دی، پی ٹی آئی کے حق میں کیوں دی،ہم بہت دیر سے کہہ رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی نہ کوئی مشترک مفاد ضرور ہے، گیارہ سال میں پی ٹی آئی کے کسی قومی یا علاقائی رہنما پر دہشت گردی نہیں ہوئی، یہ سوال ضرور اٹھے گا،پاکستان میں سیاسی جماعتیں،سیکیورٹی فورسز،سرکاری دفاتر، جنازے اور شادی کی تقریبات بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہیں،ٹی ٹی پی ہو، بی ایل اے ہو یا کوئی اور دہشت گرد گروہ، نام لے کر مقابلہ کرنا ہو گا، ہم نے بار بار کہا سیاست اپنی جگہ،آئیں مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں،وفاق نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے خیبر پختونخوا حکومت سے آخری حد تک رابطے کیے،وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے مذاکرات کے لیے گھر بلایا تو گھر گئے، دفتر بلایا تو دفتر گئے، کے پی ہاس بلایا تو وہاں بھی گئے،دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے وفاق نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن کوئی راستہ نہیں نکلا، طلال چویدری نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے بھی آخری کوشش کرائی گئی،لیکن وہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی،گورنر راج سیاست کے لیے نہیں، دہشت گردی کے خلاف ایک انتظامی اقدام ہے، خیبر پختونخوا میں انتظامی سیٹ اپ صرف ایک ایجنڈے پر بنایا گیا ہے، اور وہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے،یہ حکومتیں بنانے یا گرانے کی سیاست نہیں، پاکستان میں امن قائم کرنے کی جنگ ہے،امن ہو گا تو سیاست ہو گی، امن نہیں ہو گا تو حکومت اور اپوزیشن بھی بے معنی ہو جائیں گی،دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت کی نہیں،پوری ریاست کی جنگ ہے،جو پاکستان کے خلاف اٹھنے والے ہتھیاروں کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا،ریاست اس سے نمٹے گی،دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے ساتھ ریاست کیا کرے،یہ فیصلہ ریاستی ادارے خود کریں گے۔




