فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ ن کے رہنمابیرسٹرعمراحمدمنے خان نے کہا ہے کہ جب کوئی صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہو تو سیاست روک کر ریاست کو ترجیح دینے کی ضرورت ہوتی ہے مگر پی ٹی آئی اوروزیراعلی خیبرپختونخوا کی تمام تر توجہ اپنے بانی پر تھی۔جاری بیان میں ان کاکہناتھاکہ اگر کسی صوبے کے معاملات آئینی طریق کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں توانہیں قانون کے مطابق چلانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے۔اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی گئی ۔ خیبرپختوا میں حالا ت اتنے سنگین ہونے کے باوجود فرانز ک لیبارٹری موجود نہیں، جبکہ محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام صورتِ حا ل کا جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی گئی اب اس ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال میں 3 ہزارسے زائد دہشت گردی کے واقعات ہوئے مگرکے پی حکومت نے سیکورٹی فورسز کی مدد تو درکنار شہدا کے جنازوں میں شرکت اور واقعات کی مذمت بھی نہیں کی-




