اسلام آباد (بیوروچیف) سرکاری خریداری میں ممکنہ گٹھ جوڑ پکڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار،مسابقتی کمیشن کے مطابق پاکستان میں سالانہ ساٹھ ارب ڈالر کی سرکاری خریداری کی نگرانی اب جدید نظام سے ممکن ہو گی۔مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے سرکاری خریداری میں بڈرگنگ کی نشاندہی کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیارکرلیا،بڈ رگنگ ڈیٹیکشن سسٹم مشتبہ بولیوں اورممکنہ گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرے گا، مسابقتی کمیشن کیمطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً ساٹھ ارب ڈالرسرکاری خریداری پر خرچ ہوتے ہیں،جو ملکی قومی پیداوار کے 15سے 20 فیصد کے برابر ہے۔چیئرمین فرید احمد تارڑ کے مطابق کھربوں روپیکی خریداری کی نگرانی اور دستی جانچ ممکن نہیں۔نیا نظام تحقیقاتی وسائل کو زیادہ خطرے والے معاملات پر مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم نظام کے الرٹس کسی خلاف ورزی یا کارٹل کا حتمی ثبوت نہیں ہوں گے۔، ہر معاملے کی آزادانہ تصدیق، شواہد اور قانونی جانچ ضروری ہوگی،سی سی پی کا نظام اسٹینفورڈ کی عالمی اینٹی ٹرسٹ رپورٹ میں شامل ہے، جس میں دنیا کے تیس مسابقتی اداروں کے تجربات پیش کیے گئے ہیں۔نظام کے نفاذ کیلئے وفاقی و صوبائی پروکیورمنٹ اتھارٹیز اور ایس ای سی پی سے ادارہ جاتی مفاہمت طے پاگئی ہے، جبکہ یہ نظام نفاذ سے پہلے انتظامات کے پیش رفتہ مرحلے میں ہے۔ مسابقتی کمیشن کے مطابق اس سے سرکاری خریداری میں منصفانہ مسابقت اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی۔




