سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا (اداریہ)

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ موقف کہ حکومت کے پاس حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا تھا، ایک اہم معاملہ ہے۔ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی اور بدامنی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اس صوبے کے عوام نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پولیس اہلکاروں’ سکیورٹی فورسز کے جوانوں’ سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسے حالات میں وفاقی حکومت ہو یا صوبائی انتظامیہ’ کسی کے لیے بھی امن وامان کی صورتحال سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی’ مربوط حکمت عملی اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے، اگر ایسا کرتے تو مجرمانہ غفلت ہوتی اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے نتیجے میں ملک کو ماضی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حالیہ صورحال میں وفاقی حکومت نے معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ وفاقی حکومت ملک میں جاری ترقی اور خوشحالی کے عمل کو متاثر ہونے سے بچانا چاہتی تھی۔ صوبے میں معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قائم کی گئی ایڈوائزری کونسل میں غیر سیاسی افراد کی اکثریت شامل ہے جو مستند اور اہل ہیں۔ حکومت ان کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریگی۔ حکومت نے معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بتدریج بہتری اﷲ تعالیٰ کے فضل اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی دبائو’ دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام جیسے متعدد چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ سرمایہ کاری’ کاروباری سرگرمیوں’ روزگار اور ترقی کے لیے امن اور سیاسی استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بحالی کو سیاسی برتری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی ذمہ داری سمجھا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو مفاہمت اور قومی یکجہتی کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ پاکستان کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ آئین کی پاسداری’ قانون کی حکمرانی’ دہشتگردی کے خاتمے اور عوامی حقوق کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خیبرپخونخوا سمیت پورے ملک کو پائیدار امن’ استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں