کھانے کی میز پر اپنائی جانے والی ایک معمولی عادت کس طرح فالج اور امراض قلب کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے؟ بلند فشار خون، جسے عام طور پر ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد بالغ افراد کو متاثر کرتا ہے۔ نصف افراد اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان میں سے تقریباً چونکہ اس بیماری کی عالمات عموماً ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے اسے خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ یہ مرض بتدریج دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور فالج اور دل کے دورے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ پاکستان میں بھی اندازا 40 سال سے زائد ِ عمر کے ہر تین میں سے ایک بالغ فرد بلند فشار خون سے متاثر ہو سکتا ہے۔ نمک کا استعمال کیوں اہم ہے؟ عام طور پر بلڈ پریشر کی سطح 80/120 ملی میٹر مرکری(mmHg) سے کم ہونی چاہیے،ر خون تصور کیا جاتا ہے۔ اس بیماری کی جبکہ اگر اس کی پیمائش مسلسل 90/140یا اس سے زیادہ رہے تو اسے بلند فشار آسان ہے۔ مختلف وجوہات میں غیر متوازن غذا ایک اہم وجہ ہے، جس پر قابو پانا نسبتاً نمک دراصل سوڈیم کلورائیڈ ہوتا ہے۔ اس میں موجود سوڈیم جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کا سبب بنتا ہے۔ جب خون میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے تو شریانوں کی دیواروں پر دبا میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سوڈیم کی زیادتی خون کی نالیوں کو سخت فشار خون میں مبتلا افراد نمک کے ِ کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔ بزرگ افراد، ذیابیطس کے مریض اور پہلے سے بلند مضر اثرات کے حوالے سے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔ تحقیقی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ روزانہ نمک کی مقدار میں4سے5گرام کمی کرنے سے سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی بلڈ پریشر کی اوپر ی پیمائش، اوسطاً 4سے 5ملی میٹر مرکری تک کم ہو سکتی ہے۔ بلند فشار خون کے مریضو ں میں یہ کمی مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔ اگر پوری آبادی زندگی میں نمک کا استعمال کم کیا جائے تو اس معمولی سی تبدیلی کے نتیجے میں فالج اور دل کے دورے کے ہزاروں واقعات سے بچائو ممکن ہو سکتا ہے۔ نمک کی کتنی مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے؟ ایک عالمی ادارہ صحت کی سفارش کے مطابق، ایک بالغ فرد کو روزانہ 5گرام سے کم نمک استعمال کرنا چاہیے، جو تقریباً ہموار چائے کے چمچ کے برابر ہے۔ تاہم، بہت سے افراد روزانہ اس سے دگنی مقدار یا اس سے بھی زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں۔ نمک کی زیادتی کا سبب صرف کھانے میں اوپر سے نمک ڈالنا نہیں، بلکہ کھانا پکاتے وقت استعمال ہونے واال نمک، اچار، چٹنیاں، نمکین اشیائے خورونوش، فوری تیار ہونیوالے نوڈلز، پراسیس شدہ گوشت، ڈبل روٹی اور فاسٹ فوڈ بھی سوڈیم کی طرز زندگی کیلئیضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ خوراک میں نمک کی مجمو عی ِ مقدار بڑھا تے ہیں۔ اس لیے صحت مند مقدار پر توجہ دیں۔ نمک کا استعمال کم کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟بلند فشار خون کے خطرے کو کم کرنے کے لیے روزمرہ زندگی میں چند آسان مگر موثر تبدیلیاں اختیار کی جا سکتی ہیں ِ کھانا پکاتے وقت نمک کم استعمال کریں: کھانے میں نمک کی مقدار بتدریج کم کریں اور کھانے کے دوران اوپر سے مزید نمک ڈالنے سے گریز کریں۔ ذائقہ بہتر بنانے کے لیے لیموں، لہسن، ادرک اور مختلف مصالحہ جات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ نمکین اور پراسیس شدہ غذائو ں سے احتیاط کریں: اچار، نمکین اسنیکس، فوری تیار ہونے والے نوڈلز، ڈبہ بند غذائوں اور پراسیس شدہ اشیائے خورونوش کا استعمال محدود رکھیں۔ غذائی لیبل ضرور پڑھیں: پیک شدہ غذائیں خریدتے وقت ان پر درج سوڈیم کی مقدار کا جائزہ لیں اور نسبتاً کم سوڈیم والی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ مثلاً کیلا اور پالک، اپنی خوراک میں شامل تازہ اور متوازن غذا اپنائیں: تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں ، کریں۔ تاہم، گردوں کے امراض میں مبتلا افراد پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں: باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کریں، صحت مند وزن برقرار رکھنے کی کوشش کریں، تمباکو نوشی سے اجتناب کریں اور الکحل کے استعمال سے گریز کریں۔ بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ کروائیں: اپنے فشار خون کی باقاعدگی سے پیمائش کروائیں، خصوصاً 30 سال کی عمر کے بعد یا اس صورت میں جب خاندان میں بلند فشار خون کی تاریخ موجود ہو۔ ایک چھوٹی سی تبدیلی، صحت مند زندگی کی ضمانت۔ذائقے کی عادت بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اگر چند ہفتوں تک نمک کا استعمال کم رکھا جائے تو اکثر افراد کو پہلے کے مقابلے میں معمول کا کھانا زیادہ نمکین محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس طرح بتدریج کم نمک والی غذا کو اپنانا آسان ہو سکتا ہے۔ باورچی خانے میں نمک کی مقدار کم کرنے جیسی بلند فشار خون ایک عام مگر بڑی حد تک ِ معمولی تبدیلی نہ صرف ہماری اپنی صحت بلکہ ہمارے خاندان کی صحت کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یاد رکھیں، اگر بلڈ پریشر مسلسل بلند رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ متوازن غذا اور نمک میں کمی عالج میں معاون ثابت ہوتی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر تجویز کردہ ادویات اور طبی عالج کا متبادل نہیں ہے۔




